صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 619 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 619

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۱۹ ٢٣ - كتاب الجنائز ۱۲۳۸ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ ۱۲۳۸ عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) میرے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا باپ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا:) اعمش نے ہمیں بتایا، شَقِيقٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ (کہا) شقق ( بن سلمہ ) نے ہمیں بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَّاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرے گا وہ آگ میں داخل ہوگا اور میں (یعنی عبد اللہ بن وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا مسعود) کہتا ہوں: جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو بھی دَخَلَ الْجَنَّةَ۔اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو جنت میں داخل ہوگا۔اطرافه: ٤٤٩٧ ، ٦٦٨٣ مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ: عنوانِ باب میں ان روایتوں کی طرف اشارہ کیا گیا تشریح: ہے جنہیں ابو داؤد اور حاکم نے اپنی مسندوں میں حضرت معاذ بن جبل سے نقل کیا ہے اور جن میں یہ الفاظ آتے ہیں: قَالَ رَسُولُ اللهِ الا الله مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ (ابو داؤد، کتاب الجنائز، باب في التلقين) (المستدرك على الصحيحين كتاب الجنائز باب من كان آخر كلامه لا اله الا الله دخل الجنة) امام بخاری نے عنوانِ باب میں مَنْ كَانَ آخِرُ كَلامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہہ کر اس کا جواب حذف کر دیا ہے اور وہب بن منبہ کی تاویل درج کر کے اس کا مفہوم واضح کیا ہے۔کلمہ لا إله إِلَّا الله چابی تو ہے بشرطیکہ اس چابی کے کام کرنے والے اجزاء بھی موجود ہوں یعنی اقرار توحید کے ساتھ اقرار رسالت و اعمال صالحہ بھی ہوں تب جنت کا دروازہ کھولا جائے گا۔بہیقی نے اپنی کتاب شعب الایمان میں جہاں حضرت معاذ بن جبل کی مشار الیہا روایت نقل کی ہے، وہاں یہ الفاظ بھی بیان کئے ہیں: وَلَكِنُ مِفْتَاحٌ بِلَا أَسْنَانِ فَإِنْ جِئْتَ بِمِفْتَاحِ لَهُ أَسْنَانٌ فُتِحَ لَكَ وَإِلَّا لَمْ يُفْتَحُ لَكَ - ( فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۱۴۲) اس ضمن میں دیکھئے کتاب الایمان تشریح باب ۱۵ تا باب ۱۸، باب ۲۲ ، باب ۲۵ ، باب ۳۳۔وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ : حضرت ابوذر غفاری نے تعجب سے جو یہ دریافت کیا کہ خواہ وہ چوری کرے اور خواہ وہ زنا کرے تو اس کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادیا تھا: لا يَزْنِي الزَّانِي حِيْنَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ (بخارى كتاب الحدود، باب السارق حين يسرق ، روایت نمبر ۶۷۸۲) یعنی انسان مومن ہو کر زنا نہیں کرتا۔اقرار لا إِلهَ إِلَّا الله کے در اصل یہ معنی ہیں کہ اقرار کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے احکام کے مقابل پر اپنے نفس اور اس کی شہوات کو مغلوب کر لیا ہے: مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكْ بِاللهِ شَيْئًا کا یہی مفہوم ہے کہ اس کے نفس میں موت کے وقت دوئی کا شائبہ نہیں رہا اور یہ کہ وہ کامل توحید پر قائم تھا۔ایسے شخص کے سابقہ گناہ خواہ زنا اور چوری سے تعلق رکھتے ہوں یقینا بے اثر ہوں گے، یعنی توحید پر قائم ہونے کے ساتھ انسان کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور اس کے اور جنت کے درمیان حائل نہیں ہوتے۔اس تعلق میں مزید دیکھئے کتاب المظالم تشریح باب نمبر ا۔