صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 616
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۱۶ ٢٢ - كتاب السهو فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا اور آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔جب آپ النَّاسُ مَا لَكُمْ حِيْنَ نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔آپ الصَّلَاةِ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيقِ إِنَّمَا نے فرمایا: لوگو تمہیں نماز میں کوئی امر پیش آئے تو ! التَصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ مَنْ نَّابَهُ شَيْءٌ فِي تم تالیاں بجانے لگتے ہو۔تالی بجانا تو عورتوں کے صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا لئے ہے۔جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو يَسْمَعُهُ أَحَدٌ حِيْنَ يَقُوْلُ سُبْحَانَ اللَّهِ إِلَّا چاہیے کہ سبحان اللہ کہے۔جس وقت سبحان اللہ کہے گا تو جو بھی سنے گا اس کی طرف متوجہ ہو گا۔ابو بکر ! الْتَفَتَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ لِلنَّاسِ حِيْنَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ فَقَالَ جب میں نے تمہیں اشارہ کیا تھا تو تمہیں کس بات نے روکا کہ لوگوں کو نماز پڑھاتے ؟ حضرت ابو بکر أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا كَانَ يَنْبَغِي نے کہا: ابو قحافہ کے بیٹے کے لئے یہ زیبا نہ تھا کہ لِابْن أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہو کر نماز رَسُوْلِ اللهِ۔پڑھائے۔اطرافه : ۶۸٤ ، ۱۲۰۱ ، ۱۲۰٤، ۱۲۱۸، ۲۶۹۰، ۲۶۹۳، ۷۱۹۰، ١٢٣٥: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ :۱۲۳۵ حي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ( عبد الله ) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا ، ( کہا: ) عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ (سفيان) ثوری نے مجھے بتایا۔انہوں نے ہشام قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ سے، ہشام نے فاطمہ ( بنت منذر ) سے، فاطمہ نے حضرت اسماء سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: میں عَنْهَا وَهِيَ تُصَلِّي قَائِمَةً وَالنَّاسُ قِيَامٌ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور وہ کھڑی فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا نماز پڑھ رہی تھیں اور لوگ بھی کھڑے تھے۔میں نے إلَى السَّمَاءِ فَقُلْتُ آيَةٌ فَقَالَتْ بِرَأْسِهَا کہا: لوگوں کی کیا حالت ہے؟ تو انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔میں نے کہا: کیا کوئی أَيْ نَعَمْ نشان ہے؟ تو انہوں نے سر سے اشارہ کیا۔یعنی ہاں۔اطرافه ٨٦ ۱۸٤، ۹۲۲، ۱۰۰۳، ۱۰٥٤، ۱۰٦۱، ۱۳۷۳ ، ۲۵۱۹، ۲۰۲۰، ۷۲۸۷