صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 47 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 47

البخاری جلد ۲ ۴۷ ١٠ - كتاب الأذان (۱۶) خشوع و خضوع سے حصہ پانا۔(۱۷) اور جماعت میں شریک ہونے کی وجہ سے اپنے لباس اور وضع قطع کے اچھے رکھنے کا اہتمام کرنا۔(۱۸) ملائکہ کا قرب حاصل ہونا۔(۱۹) ملائکہ کا قرآت سے استفادہ کرنا۔(۲۰) شعار اسلام کے ظاہری طور پر قائم کرنے کا موقع ملنا۔(۲۱) شیطانی جدوجہد کا مقابلہ کرنا اور دوسروں کے لئے ترغیب کا باعث بننا۔(۲۲) نفاق سے محفوظ ہو جانا۔(۲۳) دوسروں کی بدظنی سے بچنا۔(۲۴) جماعت کی آمین اور ملائکہ کی آمین میں شریک ہونا۔(۲۵) جماعت کی مجموعی دعا اور برکت سے فائدہ اٹھانا۔(۲۶) نظام جماعت کے قیام میں مید ہونا۔(۲۷) ایک دوسرے کے ساتھ الفت اور موانست پیدا کرنے اور افراد جماعت کی خبر گیری کا موقع پانا۔(ماخوذ از فتح الباری جزء ثانی صفحه ۱۷۳-۱۷۴) ان میں سے دو یعنی نمبر ۲۴۱۹ وہ فضیلتیں ہیں جو ظہر اور عصر کی نماز میں بوجہ قرآت بالجبر نہ ہونے کے حاصل نہیں ہوتیں۔علامہ ابن حجر کی یہ تشریح نہایت قابل قدر ہے۔جس کی تائید روایت نمبر ۶۴۷ کے آخری الفاظ سے بھی ہوتی ہے اور دیگر احادیث میں بھی ان امور کا ذکر آتا ہے۔صَلوةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلوةَ الفَةِ: اس باب سے متعلق یہ اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ جب سابقہ باب کا موضوع یہ ہے کہ باجماعت نماز فرض عین ہے تو پھرا کیلے نماز پڑھنے پر نماز با جماعت کی فضیلت کے کیا معنی؟ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تنہا آدمی کی نماز فریضہ ہو جاتی ہے حالانکہ نماز فریضہ سے متعلق یہ مسئلہ ہے کہ وہ ایسی نماز ہے جو جماعت کے ساتھ مخصوص ہے۔جیسا کہ باب نمبر ۳۰ کے مندرجہ حوالوں کا بھی یہی مفہوم ہے۔اس اعتراض کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ الفاظ تُضَعْفُ عَلی صَلوتِهِ فِي بَيْتِهِ وَفِى سُوقِهِ سے بھی مراد وہ نماز ہے جو گھر یا بازار میں باجماعت پڑھی جاتی ہے اور جو نماز اس سے ستائیس یا پچھپیں گنا افضل قرار دی گئی ہے۔وہ جامع مسجد کی باجماعت نماز ہے۔چنانچہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عنوان باب میں جو حوالہ حضرت انس کی روایت کا دیا ہے وہ یہی بات سمجھانے کے لئے ہے کیونکہ حضرت انس نے باجماعت نماز نہ ملنے پر نماز ادا کی تو اذان اور تکبیر اقامت کے ساتھ ادا کی، جو جماعت کا حکم رکھتی ہے۔جو شخص کسی معذوری سے باجماعت نماز نہ پاسکے اس کے لئے یہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ وہ اذان دے اور تکبیر اقامت کہے اور نماز ادا کرے۔ورنہ اس کی نماز فریضہ نہیں بلکہ نفل ہوگی۔چنانچہ حضرت ابوذر سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: أَوْصَانِی خَلِيلِی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ إِسْمَعْ وَاطِعُ وَلَوْلِعَبْدِ مُجَدَّعِ الْأَطْرَافِ وَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً فَاكْثِرُ مَاءَ هَا ثُمَّ انظُرُ اهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ فَاصِبُهُمْ مِنْهُ بِمَعْرُوفٍ وَصَلَّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا فَإِنْ وَجَدْتَ الْإِمَامَ قَدْ صَلَّى فَقَدْ اَحْرَزْتَ صَلوتَكَ وَالَّا فَهِيَ نَافِلَةٌ (الادب المفرد- باب يكثر ماء المرق فيقسم في الجيران۔روایت نمبر ۱۱۳) میرے جانی دوست صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی مجھے تاکید فرمائی۔امیر کی بات سن اور اطاعت کر۔خواہ اپانچ غلام ہی ہو اور اگر شور بہ تیار کرے تو پانی زیادہ ڈال۔پھر اپنے کسی پڑوسی کو دیکھ اور اسے دے کر بھلائی کر اور وقت پر نماز پڑھ اور اگر امام کو پالے جس نے نماز پڑھائی ہے ( یعنی تو اس میں شامل ہو گیا ہو ) تو تو نے نماز محفوظ کر لی۔ورنہ وہ نماز نفل نماز ہوگی۔