صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 46
صحيح البخاری جلد ۲ ليم ١٠ - كتاب الأذان وَعِشْرِيْنَ ضِعْفًا وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ کرے اور اچھی طرح وضو کرے۔ پھر وہ مسجد کی فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى طرف نکلے۔ بحالیکہ اسے صرف نماز ہی نکال رہی ہو الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَمْ تو جو قدم بھی وہ اٹھائے گا، اس ایک قدم پر اس کا ایک يَخْطُ خُطْوَةً إِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةً درجہ بلند اور ایک گناہ دور کر دیا جائے گا اور جب وہ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ فَإِذَا صَلَّى لَمْ نماز پڑھے گا تو جب تک وہ اپنی نماز گاہ میں رہے گا، تَزَلِ الْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَيْهِ مَا دَامَ فِي ملائکہ اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہیں گے۔ مُصَلَّاهُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ (کہیں گے: اے اللہ ! اس پر خاص رحمت فرما۔ اس وَلَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةِ مَا انْتَظَرَ پر رحم فرما اور تم میں سے ایک آدمی نماز ہی میں ہوتا ہے الصَّلاةَ۔ جب تک وہ نماز کا انتظار کرے۔ اطرافه ١٧٦، ٤٤٥ ، ٤٧٧ ، ٦٤٨ ، ٦٥٩ ، ۲۱۱۹، ۳۲۲۹، ۴۷۱۷۔ تشريح : وَكَانَ الْأَسْوَدُ إِذَا فَاتَتْهُ الْجَمَاعَةُ ذَهَبَ إِلَى مَسْجِدٍ آخَرَ : عنوان باب میں اسود ( بن یزید نخعی) اور حضرت انس کے جو حوالے دیئے ہیں ان سے یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ صحابہ اور تابعین با جماعت نماز کو کس قدر ضروری سمجھتے تھے۔ ہے۔ اول الذکر مشہور تابعین کبار میں سے ہیں۔ ان حوالوں کی تفصیل فتح الباری ( جزء ثانی صفحہ ا۱۷ تا ۱۷۲) میں دیکھئے۔ روایت نمبر ۶۴۵ میں باجماعت نماز کی فضیلت ستائیس درجے بتائی گئی ہے اور روایت نمبر ۶۴۶، ۶۴۷ میں پچیس کا ذکر ہے ۔ حضرت ابن عمر کی روایت تر وایت ترتیب میں پہلے نقل کی گئی ہے۔ کی ہے۔ بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہ تقدیم اس لئے ہے کہ بلحاظ ضبط و صحت کے ان کو حضرت ابو سعید اور حضرت ابو ہریرہ پر ترجیح ہے۔ علامہ ابن حجر نے دونوں قسم کی روایتیں صحیح مان کر ستائیس درجے والی حدیث صَلوةٌ بِالْجَهْرِ کے لئے مخصوص کی ہے اور اس کے لئے ستائیس وجوہ گئے ہیں۔ جن کی وجہ سے با جماعت نماز میں زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ (1) مؤذن کی دعوت سن کر نیت کرنا۔ (۲) اول وقت جانا۔ (۳) آرام واطمینان سے چلنا۔ (۴) مسجد میں دعا کرتے ہوئے داخل ہونا۔ (۵) مسجد میں داخل ہونے پر دوگانہ نوافل ادا کرنا۔ (۶) جماعت کا انتظار کرنا۔ (۷) ملائكة الله کا اس کے لئے دعائے رحمت کرنا۔ (۸) اور اس کا شاہد حال ہونا۔ (۹) قَدْ قَامَتِ الصَّلوة کی تعمیل کا موقع پانا۔ (۱۰) شیطان سے محفوظ رہنا۔ (۱۱) امام کی تکبیر کا انتظار کرنا۔ (۱۲) صفوں کی درستگی میں شریک ہونا۔ (۱۳) امام کی اطاعت اور اس کی ضرورت کی حقیقت سے آگاہ ہونا۔ (۱۴) امام کی وجہ سے عموماً بھول سے محفوظ رہنا۔ (۱۵) امام کو بھولنے پر سُبْحَانَ اللہ کہہ کر آگاہ کرنا ۔