صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 612
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۱۲ ٢٢ - كتاب السهو فریضہ رہ جائے تو اس کی ادائیگی اور سجدہ سہو دونوں ضروری ہیں۔فقہاء نے اس مسئلے میں کئی اختلافی شقیں پیدا کی ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے: بداية المجتهد، كتاب الصلاة، الباب الثالث من الجملة الرابعة في سجود السهو، الفصل الثالث نیز دیکھئے: فتح الباری جز ۳۶ صفحہ ۱۳۶،۱۳۵۔عمدۃ القاری جزءے صفحہ ۳۱۴۔امام بخاری نے ان سب اختلافات کو نظر انداز کر کے اصل مسئلہ اپنی سادہ صورت میں پیش کیا ہے۔سجدہ سہو کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا تعلق مطلق نماز کے ساتھ ہے۔الفاظ إِذَا قَامَ يُصَلَّی میں نہ نماز فریضہ کی تخصیص ہے اور نہ نوافل کی اور نہ اس امر کی کہ نماز کے کون سے افعال ترک کرنے پر سجدہ سہو کیا جائے۔بَاب ٨ : إِذَا كُلِّمَ وَهُوَ يُصَلَّيْ فَأَشَارَ بِيَدِهِ وَاسْتَمَعَ اگر کسی سے بات کی جائے جبکہ وہ نماز پڑھ رہا ہو اور وہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرے اور بات سنے ۱۲۳۳: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ ۱۲۳۳ سحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ (عبدالله) بن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں أَخْبَرَنِي عَمْرُو عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ نے کہا: عمرو ( بن حارث ) نے بکیر سے، بکیر نے كُرَيْبٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسِ وَالْمِسْوَرَ بْنَ کریب سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت مَخْرَمَةً وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ ابن عباس حضرت مسور بن مخرمہ اور حضرت عبدالرحمن رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَرْسَلُوْهُ إِلَى عَائِشَةَ بن از ہرضی اللہ عنہم نے ان کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اللهُ عَنْهَا فَقَالُوْا اقْرَأْ عَلَيْهَا کے پاس بھیجا اور کہا: ہم سب کی طرف سے ان کو سلام السَّلَامَ مِنَّا جَمِيْعًا وَسَلْهَا عَنِ کہیں اور ان سے عصر کی نماز کے بعد دو رکعتوں کی الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُلْ بابت پوچھیں اور ان سے کہیں: ہمیں بتایا گیا ہے کہ لَّهَا إِنَّا أُخْبِرْنَا عَنْكِ أَنَّكِ تُصَلَّيْنَهُمَا آپ پڑھا کرتی ہیں۔حالانکہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے روکا تھا اور وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ حضرت ابن عباس نے کہا کہ میں حضرت عمر بن خطاب وَكُنتُ أَضْرِبُ النَّاسَ مَعَ عُمَرَ بْنِ رضی اللہ عنہما کے ساتھ ہو کر لوگوں کو مار مار کر ان سے رضي