صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 611
صحيح البخاری جلد ۲ تشریح: ۶۱۱ ٢٢ - كتاب السهو إِذَا لَمْ يَدْرِكُمْ صَلَّى ثَلاثًا اَوْ اَرْبَعًا : شہر کی حالت میں بھی اسی طرح دو سجدے کئے جائیں جس طرح بھولنے کی حالت میں اور شبہ کی بناء پر نہ کوئی رکعت پڑھی جائے اور نہ کسی فعل کا اعادہ کیا جائے۔جس کے متعلق شک ہو صرف یقین کی بناء پر کمی پورا کرنے کی اجازت ہے۔شیطان کے گوز مارنے کی تشریح روایت نمبر ۱۲۲۲ کے ذیل میں گذر چکی ہے۔بَاب : اَلسَّهْوَ فِي الْفَرْضِ وَالتَطَوُّع فرضوں اور نفلوں میں بھول جانا وَسَجَدَ ابْنُ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے وتر کے بعد سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ وِتْرِهِ دو سجدے کئے۔۱۲۳۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۱۲۳۲: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي ) کہا : ( مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سَلَمَةَ بْن عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سے، ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں يُصَلِّي جَاءَ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ حَتَّى سے جب کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے تو شیطان آتا لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ ہے اور اس کے لئے نماز مشتبہ کر دیتا ہے، یہاں تک أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھیں؟ پس جب تم میں سے کسی کو ایسا اتفاق ہو تو چاہیے کہ وہ بیٹھے جَالِسٌ اطرافه ٦٠٨، ۱۲۲۲، ۱۲۳۱، ۳۲۸۵ بیٹھے دو سجدے کرے۔تشریح اَلسَّهُوَ فِى الْفَرْضِ وَالتَّطَوُّع: بعض فقہاء نے فرائض اور نوافل کے درمیان سجدہ سہو کرنے یا نہ کرنے سے متعلق ایک فرق ملحوظ رکھا ہے خواہ نقل از قبیل سفن ہوں۔مثلاً امام مالک کہتے ہیں کہ وتر میں اگر دعائے قنوت رہ جائے تو سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں۔کیونکہ قنوت ان کے نزدیک مستحب ہے، واجب نہیں۔امام شافعی اس کو سنت قرار دیتے ہوئے اس کے ترک کرنے پر سجدہ سہو ضروری قرار دیتے ہیں لیکن اگر ارکانِ نماز میں سے کوئی