صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 608 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 608

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۸ ٢٢ - كتاب السهو صلى الله صورتوں میں مؤید ہیں جہاں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کیا جاتا ہے، یعنی زیادتی کے وقت اگر سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کیا جائے ، تو التحیات کا اعادہ ضروری نہیں۔ یہی مذہب امام شافعی ، امام احمد بن حنبل اور جمہور کا ہے۔ بعض فقہاء نے کہا ہے کہ سجدہ سہو کے بعد صرف سلام پھیرے اور بعض نے اسے نمازی پر چھوڑا ہے۔ خواہ سجدہ سہو کے بعد التحیات پڑھ کر سلام پھیرے خواہ التحیات پڑھے بغیر ۔ اس قسم کے اختلاف کی وجہ سے عنوانِ باب میں دور وایتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔ روایت نمبر ۱۲۲۸ سے معلوم ہوتا ہے کہ سلام کے بعد نبی ﷺ سجدہ سہو کر ۔ علی سجدہ سہو کر کے نماز سے فارغ ہو گئے نہ النا ہو گئے نہ التحیات پڑھی اور نہ سلام پھیرا۔ اسی طرح سلمہ بن علقمہ کی روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ سہو کے بعد التحیات نہیں پڑھی گئی۔ مگر ان کے علاوہ اور لوگوں کی روایتیں ہیں جن کی رو سے التحیات کا پڑھنا ثابت ہے۔ ابو داؤد، ترندی، ابن حبان اور حاکم نے حضرت عمران بن حصین کی ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی یہ نماز میں بھول گئے تو آپ نے دو سجدہ سہو کیے۔ پھر التحیات پڑھی اور اس کے بعد سلام پھیرا۔ (فتح الباری جزء ۳ صفحه ۱۲۸، ۱۲۹) یہ روایتیں امام بخاری کی شرائط کے مطابق نہیں۔ بابه : مَنْ يُكَبِّرُ فِي سَجْدَتَي السَّهْوِ جو سہو کے دو سجدوں میں اللہ اکبر کہے ۱۲۲۹ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ۱۲۲۹ : حفص بن عمر نے ہم ۔ سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ یزید بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے محمد (بن أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّی سیرین) سے، محمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ النَّبِيُّ ﷺ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ قَالَ قال سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مُحَمَّدٌ وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ نے دوپہر کی دو نمازوں میں سے ایک نماز میں دو رکعتیں پڑھیں۔ محمد بن سیرین) کہتے تھے : اور میرا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نمازقة کی نماز تھی۔ پھر آپ نے یہ وہ مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا سلام پھیرا۔ اس کے بعد آپ ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر وَفِيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کھڑے ہوئے جو مسجد کے سامنے تھی۔ آپ نے اس فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ پر اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں میں حضرت ابوبکر اور حضرت (ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في التشهد فى سجدتي السهو) (ابوداؤد، كتاب الصلاة، باب سجدتي السهو فيهما تشهد والتسليم) (المستدرك على الصحيحين، كتاب السهو، روایت نمبر ۱۲۰۷، جزء اول، صفحه ۴۶۹) (صحیح ابن حبان، كتاب الصلاة، باب سجود السهو ذكر البيان بأن الساجد سجدتي السهو بعد السلام عليه ان يتشهد ثم يسلم ثانيا، روایت نمبر ۲۶۷۰، جزء ۶ صفحه۳۹۲)