صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 608
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۰۸ ٢٢ - كتاب السهو صورتوں میں مؤید ہیں جہاں سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کیا جاتا ہے، یعنی زیادتی کے وقت اگر سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کیا جائے، تو التحیات کا اعادہ ضروری نہیں۔یہی مذہب امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور جمہور کا ہے۔بعض فقہاء نے کہا ہے کہ سجدہ سہو کے بعد صرف سلام پھیرے اور بعض نے اسے نمازی پر چھوڑا ہے۔خواہ سجدہ سہو کے بعد التحیات پڑھ کر سلام پھیرے خواہ التحیات پڑھے بغیر۔اس قسم کے اختلاف کی وجہ سے عنوانِ باب میں دو روایتوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۲۲۸ سے معلوم ہوتا ہے کہ سلام کے بعد نبی ﷺ سجدہ سہو کر کے نماز سے فارغ ہو گئے نہ التحیات پڑھی اور نہ سلام پھیرا۔اسی طرح سلمہ بن علقمہ کی روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ سہو کے بعد التحیات نہیں پڑھی گئی۔مگر ان کے علاوہ اور لوگوں کی روایتیں ہیں جن کی رو سے التحیات کا پڑھنا ثابت ہے۔ابو داؤد، ترمذی، ابن حبان اور حاکم ہو نے حضرت عمران بن حصین کی ایک روایت نقل کی ہے کہ نبی ﷺ نماز میں بھول گئے تو آپ نے دو سجدہ سہو کیے۔پھر التحیات پڑھی اور اس کے بعد سلام پھیرا۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۲۹،۱۲۸) یہ روایتیں امام بخاری کی شرائط کے مطابق نہیں۔بَابه : مَنْ يُكَبِّرُ فِي سَجْدَتَي السَّهْوِ جو سہو کے دوسجدوں میں اللہ اکبر کہے ۱۲۲۹: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :۱۲۲۹ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ مُّحَمَّدٍ عَنْ يَزِيد بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد (بن یزید أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّی سیرین سے محمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ النَّبِيُّ ﷺ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ قَالَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پہر کی دو نمازوں میں سے ایک نماز میں دو مُحَمَّدٌ وَأَكْثَرُ ظَنِّيْ أَنَّهَا الْعَصْرُ رکعتیں پڑھیں۔محمد بن سیرین) کہتے تھے : اور میرا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي غالب گمان یہ ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی۔پھر آپ نے مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا سلام پھیرا۔اس کے بعد آپ ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر وَفِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا کھڑے ہوئے جو مسجد کے سامنے تھی۔آپ نے اس فَهَابَا أَنْ يُكَلَّمَاهُ وَخَرَجَ سَرَعَانُ پر اپنا ہاتھ رکھا اور لوگوں میں حضرت ابوبکر اور حضرت (ترمذى، كتاب الصلاة، باب ما جاء في التشهد فى سجدتي السهو (ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب سجدتي السهو فيهما تشهد والتسليم) (المستدرك على الصحيحين، كتاب السهو ، روایت نمبر ۷ ۱۲۰، جزء اول، صفحه ۴۶۹) (صحیح ابن حبان، کتاب الصلاة، باب سجود السهو ذكر البيان بأن الساجد سجدتي السهو بعد السلام عليه ان يتشهد ثم يسلم ثانيا، روایت نمبر ۲۶۷، جزء ۶ صفحه ۳۹۲)