صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 607
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۰۷ ٢٢ - كتاب السهو تَمِيْمَةَ السَّخْتِيَانِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ايوب بن ابی تمیمہ سختیانی سے، ایوب نے محمد بن سِيْرِيْنَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سیرین سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے،انہوں أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دورکعتیں انْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ پڑھ کر نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ سے ذوالیدین أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيْتَ يَا رَسُوْلَ نے کہا: یا رسول اللہ ! نماز کم ہوگئی ہے یا آپ بھول اللهِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ؟ کیا وَسَلَّمَ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ فَقَالَ النَّاسُ ذوالیدین سچ کہتا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں۔نَعَمْ فَقَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو وَسَلَّمَ فَصَلَّى اثْنَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ رکھتیں اور پڑھا ئیں۔پھر آپ نے سلام پھیرا۔پھر ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا جیسے آپ سجدہ کیا کرتے تھے یا اس سے لمبا۔پھر آپ نے سراٹھایا۔ثُمَّ رَفَعَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ حَدَّثَنَا سليمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا، کہا : ) حماد حَمَّادٌ عَنْ سَلَمَةَ بْن عَلْقَمَةَ قَالَ قُلْتُ ( بن یزید) نے ہمیں بتایا کہ سلمہ بن علقمہ سے مروی لِمُحَمَّدٍ فِي سَجْدَتَي السَّهْوِ تَشَهُدٌ ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے محمد بن سیرین ) سے قَالَ لَيْسَ فِي حَدِيْثِ أَبِي هُرَيْرَةَ پوچھا : کیا سہو کے دو سجدوں میں تشہد ہوتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: از روئے حدیث حضرت ابوہریرہ تشہد نہیں ہوتا۔اطرافه: ٤۸۲، ۷۱٤، ۷۱۵، ۱۲۲۷، ۱۲۲۹، 6051، ٧٢٥٠۔تشریح: کرائیے مَنْ لَّمْ يَتَشَهَّدُ فِي سَجُدَتَى السَّهُو : باب مذکورہ بالا ایک ایسا مسئلہ مدنظر رکھ کر قائم کیا گیا ہے جس کے متعلق چھ اختلاف ہوئے ہیں۔ایک فریق سجدہ سہو کے بعد نہ التحیات کا قائل ہے اور نہ سلام پھیرنے کا۔یہ مذہب حضرت انس بن مالک اور حسن بصری اور عطاء کا ہے۔اس کے برخلاف امام ابوحنیفہ التحیات اور سلام دونوں باتوں کے قائل ہیں۔ان کے نزدیک سلام سے فارغ ہونے پر سجدہ سہو کیا جائے اور جب سجدہ سہو سے سر اُٹھائے تو پھر اپنی نماز معمول کے مطابق ختم کرے، یعنی التحیات وغیرہ پڑھ کر۔امام مالک بھی اس رائے کے صرف انہی