صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 606 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 606

صحيح البخاری جلد ۲ ۶۰۶ ٢٢ - كتاب السهو الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ ذُو نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی اور سلام پھیرا تو الْيَدَيْنِ الصَّلَاةُ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَنقَصَتْ ذوالیدین نے آپ سے کہا : یا رسول اللہ ! کیا نماز فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کچھ کم ہوگئی ہے؟ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لِأَصْحَابِهِ أَحَقُّ مَا يَقُولُ قَالُوْا نَعَمْ اپنے صحابہ سے پوچھا: کیا صحیح ہے جو یہ کہتا ہے؟ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ ثُمَّ سَجَدَ انہوں نے کہا: ہاں۔ تب آپ نے دو رکعتیں اور سَجْدَتَيْنِ قَالَ سَعْدٌ وَرَأَيْتُ عُرْوَةَ بْنَ پڑھیں۔ پھر آپ نے دو سجدے کئے۔ سعد کہتے تھے: الزُّبَيْرِ صَلَّى مِنَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ اور میں نے حضرت عروہ بن زبیر" کو دیکھا کہ انہوں فَسَلَّمَ وَتَكَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى مَا بَقِيَ وَسَجَدَ نے مغرب کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا اور باتیں سَجْدَتَيْنِ وَقَالَ هَكَذَا فَعَلَ النَّبِيُّ بھی کیں۔ پھر جو ( رکعت ) باقی رہ گئی تھی ۔ وہ پڑھی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور دو سجدے کئے اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا۔ اطرافه: ٤٨٢، ۷۱٤، ۷۱۵، ۱۲۲۸، ۱۲۲۹، 6051، 7150۔ ہے۔ مگر امام سَجْدَةُ السَّهُو : امام ابوحنیفہ کے نزدیک سجدہ سہو صحت نے ہ سہو صحت نماز کے لئے بطور شرط واجب ہے۔ کے نزدیک ایسا نہیں، بلکہ مندوبات میں سے ہے۔ امام مالک نے درمیانی راہ اختیار کی ہے۔ ان کے نزدیک کمی کی حالت میں تو سجدہ سہو واجب ہے اور زیادتی میں مندوب یعنی مستحسن ہے اور بطور استغفار ہے۔ اگر نہ کیا جاوے تو صحت نماز میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ امام بخاری و جوب سجدہ سہو کے قائل معلوم ہوتے ہیں۔ بداية المجتهد، كتاب الصلاة، الباب الثالث من الجملة الرابعة في سجود السهو، الفصل الأول) بَاب ٤ : مَنْ لَّمْ يَتَشَهَّدْ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ جو سہو کے دو سجدوں کے بعد تشہد نہ پڑھے وَسَلَّمَ أَنَسٌ وَالْحَسَنُ وَلَمْ يَتَشَهَّدَا اور حضرت انس و حسن بصری نے سلام پھرا اور تشہد وَقَالَ قَتَادَةُ لَا يَتَشَهَّدُ نہیں پڑھا اور قتادہ نے کہا: تشہد نہ پڑھے۔ ۱۲۲۸ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۲۲۸: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ (کہا: ) مالک بن انس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے