صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 601
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۰۱ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة ۱۲۲۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۱۲۲۳ محمد بن مثنی نے ہم سے بیان کیا ( کہا: ) عثمان حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنِي بن عمر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ابن ابی ذئب ابْنُ أَبِي ذِلْبٍ عَنْ سَعِيْدِ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ نے مجھے بتایا کہ سعید مقبری سے مروی ہے۔انہوں نے قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ :کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: لوگ کہتے النَّاسُ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَقِيْتُ رَجُلًا ہیں: ابو ہریرہ بہت حدیثیں بیان کرتا ہے تو میں ایک شخص فَقُلْتُ بِمَا قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کو ملا اور اس سے پوچھا: کل رات عشاء میں رسول اللہ وَسَلَّمَ الْبَارِحَةَ فِي الْعَتَمَةِ فَقَالَ لَا أَدْرِي صلى اللہ علیہ وسلم نے کون سی سورۃ پڑھی تھی ؟ تو اس نے کہا فَقُلْتُ لَمْ تَشْهَدْهَا قَالَ بَلَى قُلْتُ لَكَن میں نہیں جانتا۔میں نے کہا: کیا تم نماز میں موجود نہ تھے؟ أَنَا أَدْرِي قَرَأَ سُوْرَةَ كَذَا وَكَذَا۔کہنے لگا تھا تو سہی۔میں نے کہا: مجھے تو یاد ہے۔آپ نے فلاں فلاں سورتیں پڑھی تھیں۔تشريح : يُفَكِّرُ الرَّجُلَ الشَّي ءَ فِي الصَّلَاةِ: یہ سوال اٹھایا گیاہے کہ جب خیالات کی پراگندگی وغیرہ سے نمازی کو یاد نہ رہے کہ اس نے کیا کچھ پڑھا ہے تو آیا وہ نماز کا اعادہ کرے یا رہنے دے؟ ابن التین کی رائے ہے کہ اگر خیالات کم آتے ہوں تو نماز نہ دہرائی جائے اور اگران کا ایسا غلبہ ہو کہ پتہ نہیں کہ کیا پڑھا ہے تو نماز دوبارہ پڑھے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۱۷) لیکن یہ فتوی علی الاطلاق صحیح نہیں۔کیونکہ خیالات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو صلحاء کے ذہن میں آتے ہیں۔جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز ختم کرتے ہی گھر جا کر سونے کی ڈلی تقسیم کرنے کا حکم دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضور کا ذہن اثناء قرآت میں اس طرف منتقل ہو۔روایت نمبر ۱۲۲۱ پہلے بھی گذر چکی ہے۔(دیکھئے کتاب الاذان روایت نمبر (۸۵) یا جیسا کہ حضرت عمرؓ کے ذہن میں آیا کہ فلاں لڑائی میں فوجی ترتیب و تیاری اس طرح ہو۔پس اگر ایسے نیک خیالات آئیں اور توجہ الی اللہ بحال ہو جائے تو اعادہ نماز کی ضرورت نہیں۔بعض وقت ہجوم افکار سے بے خودی کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ سورۃ فاتحہ کا پڑھنا بھی بھول جاتا ہے۔جیسا کہ حضرت عمرؓ کے متعلق مروی ہے کہ انہوں نے مغرب کی نماز پڑھائی مگر قرآت نہیں کی تو کہا گیا : آپ نے قرآت نہیں کی۔حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بھی تصدیق کی تو حضرت عمر نے دوبارہ نماز پڑھائی اور بتایا کہ وہ ملک شام کے لئے ایک فوج تیار کرنے میں مشغول ہو گئے اور فرمایا: بغیر قرآت نماز نہیں ہوتی۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۱۷) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے عدم قرآت کی وجہ سے نماز دہرائی تھی ، نہ اس لئے کہ تفکرات میں مستغرق تھے۔حضرت عمر کے متعلق اسی طرح ایک اور روایت ہے کہ پہلی رکعت میں قرآت بھول گئے تھے تو دوسری رکعت میں