صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 600 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 600

صحيح البخاري جلد ٢ ۶۰۰ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة فَقَالَ ذَكَرْتُ وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ تِبْرًا جو لوگوں کے چہروں پر آپ کے جلدی جانے کی وجہ عِنْدَنَا فَكَرِهْتُ أَنْ يُمْسِيَ أَوْ بَيْتَ سے تھا تو آپ نے فرمایا: میں نماز میں ہی تھا کہ مجھے عِنْدَنَا فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهِ۔اطرافه ۸٥١، ۱۳۰، ۶۲۷۵ سونے کی ایک ولی یاد آئی جو ہمارے پاس تھی۔میں نے نہ چاہا کہ وہ گھر میں شام تک یا فرمایا رات تک رہے۔میں نے کہہ دیا ہے کہ وہ تقسیم کر دی جائے۔۱۲۲۲: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۱۲۲۲ مئی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ جَعْفَرٍ عَنِ الْأَعْرَجِ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے جعفر سے، جعفر نے قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ اعرج سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أُذِنَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ نے فرمایا: جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِيْنَ فَإِذَا سَكَتَ شیطان پیٹھ موڑ کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے۔تا کہ وہ الْمُؤَذِّنُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوبَ أَدْبَرَ فَإِذَا اذان نہ سنے اور جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو سَكَتَ أَقْبَلَ فَلَا يَزَالُ بِالْمَرْءِ يَقُولُ لَهُ پھر آجاتا ہے۔جب تکبیر ہوتی ہے تو پھر پیٹھ موڑ کر اذْكُرْ مَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى لَا يَدْرِيَ چلا جاتا ہے۔جب وہ خاموش ہوتا ہے تو پھر آ جاتا كُمْ صَلَّى قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ ہے۔آدمی کو مشغول رکھتا ہے اور اسے وہ وہ باتیں یاد عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ کرنے کے لئے کہتا ہے جو کبھی یاد نہ کرتا۔یہاں تک فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ وَسَمِعَهُ کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھیں۔ابو سلمہ بن عبدالرحمن کہتے تھے : اگر کسی کو ایسا ہو تو وہ أَبُو سَلَمَةَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔اطرافه ،٦۰۸ ، ،۱۲۳۱ ، ۱۲۳۲، ۳۲۸۵ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔یہ بات ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی۔