صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 602 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 602

صحيح البخاري جلد ٢ ۶۰۲ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة دو دفعہ سورہ فاتحہ پڑھی اور پھر آخر میں سجدہ سہو کیا۔(فتح الباری جلد ۳ صفحہ ۱۱۷) روایت نمبر ۱۲۲۲ لانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام بخاری یہ بتانا چاہتے ہیں کہ خیالات کی پراگندگی میں سجدہ سہو کرنا کافی ہے۔قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِذَا فَعَلَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدُ سَجْدَ تَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ روایت کے ان الفاظ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ سجدہ سہو کافی ہے۔أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ : شیطان کے گوز مارنے سے مراد بے ہودہ بکواس ہے جو اذان سننے پر کفار کے منہ سے نکلتی تھی اور عین اذان کے وقت ناقوس ( سنکھ ) کی آواز بھی یہی معنی رکھتی ہے۔گوز شیطان سے وہ ناقص وساوس بھی مراد ہیں جو دلوں میں اُٹھتے ہیں۔مزید تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب الصلوۃ باب ۴ روایت نمبر ۶۰۸۔روایت نمبر ۱۲۲۳ میں توجہ بٹنے کی ایک اور مثال دی گئی ہے۔یعنی اس شخص کی جو بھول گیا ہے کہ کونسی سورۃ پڑھی گئی تھی۔