صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 599 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 599

صحيح البخاري جلد ٢ تشریح: ۵۹۹ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة الْخَصُرُ فِي الصَّلاةِ یہ ہیئت قیام دو قوف شائستگی دستانت اور انکساری کے خلاف ہے۔اس لئے اس سے منع کیا گیا ہے۔نماز تو عبادت ہے۔تقریر کرنے کی حالت میں بھی کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہونا معیوب سمجھا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری حالات کی استقامت و تہذیب میں ظاہری اطوار اور اوضاع کے ضبط و تعدیل کا خاص اہتمام رکھا ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔جواب سوال اول از صفحه ۴ تا ۱) نماز میں اسی حد تک ہاتھ سے کام لینے کی اجازت دی گئی ہے جہاں نماز پڑھنے والا اضطرار کی حالت میں ہو۔مثلاً کمر میں درد ہے اور وہ نماز میں ہے تو اسے اجازت ہوگی کہ کمر پر ہاتھ رکھ کر شدت درد کا احساس کم کرے۔ہشام نے ابن سیرین سے جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى عَنِ الْإِخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ اختصار کے لفظ سے بعض کو یہ شبہ ہوا ہے کہ اس سے قرآت مختصر کرنا یا نماز مختصر پڑھنا مراد ہے۔(فتح الباری جزء۳ صفحه ۱۱۵ ۱۱۶) امام بخاری نے اس شبہ کا ازالہ کرنے کی غرض سے عنوانِ باب میں بجائے اختصار خصر کا لفظ رکھا ہے تا یہ امر ظاہر ہو جائے کہ قرآت یا نماز مختصر کرنا مراد نہیں جیسا کہ بعض سمجھتے ہیں اور اس روایت کی سندیں بھی پیش کی ہیں جن میں بجائے اختصار کے لفظ حضر اور مُخْتَصِرًا آیا ہے اور یہ دونوں الفاظ اپنے مفہوم میں واضح ہیں۔باب ۱۸ : يُفْكِرُ الرَّجُلُ الشَّيْء فِي الصَّلَاةِ آدمی نماز میں کسی بات کے متعلق غور وفکر کرے وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنِّي لَأَجَهَرُ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو اپنی فوج تیار جَيْشِي وَأَنَا فِي الصَّلاةِ۔کیا کرتا ہوں بحالیکہ میں نماز میں ہوتا ہوں۔۱۲۲۱ : حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ :۱۲۲۱ اسحاق بن منصور نے ہم سے بیان کیا، کہا : ) حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ روح بن عبادہ) نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے ( قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ عُقْبَةَ کہا : ( عمر بن سعید نے ہمیں بتایا، کہا: ابن ابی ملیکہ نے بن الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ مُجھے خبر دی کہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مروی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کے الْعَصْرَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ سَرِيْعًا دَخَلَ ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔جب آپ نے سلام پھیرا تو عَلَى بَعْضٍ نِسَائِهِ ثُمَّ خَرَجَ وَرَأَى مَا جلدی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور اپنی ایک زوجہ کے فِي وُجُوْهِ الْقَوْمِ مِنْ تَعَجُبِهِمْ لِسُرْعَتِهِ پاس گئے۔پھر باہر آئے اور آپ نے اس تعجب کو دیکھا