صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 598
صحيح البخاري جلد ٢ ۵۹۸ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة إِلَيْكَ قَالَ أَبُو بَكْرِ مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ نماز پڑھانے سے کس بات نے روکا؟ حضرت ابوبکر أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ نے جواب دیا: ابو قحافہ کے بیٹے کے شایاں نہیں کہ وہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہو کر نماز پڑھائے۔اطرافه ٦٨٤، ۱۲۰۱ ، ۱۲۰٤ ، ۱۲۳۶، ۲۶۹۰، ۲۶۹۳، ۷۱۹۰، تشریح: رَفْعُ الْأَيْدِي فِي الصَّلَاةِ: عند الضرورت نماز میں ہاتھ اُٹھانا جائز ہے۔اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔بَابِ ۱۷ : اَلْحَصْرُ فِي الصَّلَاةِ نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنا ۱۲۱۹ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا :۱۲۱۹ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) حماد حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُّحَمَّدٍ عَنْ أَبِي (بن زید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے ، هُرَيْرَةَ قَالَ نُهِيَ عَنِ الْحَصْرِ فِي ایوب نے محمد (بن سیرین) سے، محمد نے حضرت الصَّلَاةِ وَقَالَ هِشَامٌ وَأَبُو هِلَالٍ عَنِ ابْنِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: سِيْرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِي۔نماز میں کمر پر ہاتھ رکھنے سے روکا گیا ہے۔اطرافه: ۱۲۲۰۔۱۲۲۰: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ :۱۲۲۰ عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا ) کہا : ) تكي (بن سعید قطان ) نے ہمیں بتایا کہ ہشام مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: ) محمد بن سیرین ) قَالَ نُهِيَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا۔نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اطرافه: ۱۲۱۹ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی کمر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے۔کو کشمیھنی کی روایت کے مطابق نُهِيَ أَنْ يُصَلَّى کی بجائ نَهَى النَّبِيُّ ﷺ ان يُصَلّي“ کے الفاظ ہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۱۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔