صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 596 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 596

صحيح البخاري جلد ٢ ۵۹۶ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة وَكَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِهَا إِلَى غَيْرِ پڑھ رہا تھا اور اسی نے مجھے جواب دینے سے روکا اور آپ اس وقت اپنی اونٹنی پر سوار ) تھے۔آپ کا منہ قبلہ کی طرف نہیں کسی اور طرف تھا۔القبلة۔تشریح: لَا يَرُدُّ السَّلَامَ فِي الصَّلَاةِ : بعض فقہاء کی رائے یہ ہے کہ سلام کا جواب دعا ئید رنگ میں اپنے دل میں دے دے؛ بغیر اس کے کہ منہ سے الفاظ وعلیکم السلام نکالے، یا یہ کہ اشارہ سے جواب دے۔یہ رائے امام بخاری نے قطعی طور پر رد کی ہے۔روایت نمبر ۱۲۱۶، ۱۲۱۷ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر سلام کا جواب دیا ہے۔یہی جمہور کا مذہب ہے۔بَاب ١٦: رَفْعُ الْأَيْدِي فِي الصَّلَاةِ لِأَمْرِ يَنْزِلُ بِهِ نماز میں کسی سبب سے جو پیش آئے ہاتھ اُٹھانا ۱۲۱۸: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ :۱۲۱۸ قتیبه (بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا، الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ ) کہا : ( عبد العزیز ( بن ابی حازم) نے ہمیں بتایا۔سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بَلَغَ رَسُولَ انہوں نے ابوحازم ( سلمہ بن دینار) سے، ابو حازم اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ بَنِي نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِقُبَاءٍ كَانَ بَيْنَهُمْ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوخبر پہنچی کہ شَيْءٌ فَخَرَجَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ فِي أُناسٍ بني عمرو بن عوف کے درمیان قباء میں کچھ جھگڑا ہے تو مِنْ أَصْحَابِهِ فَحْبِسَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی آپ اپنے صحابہ میں سے کچھ آدمیوں سمیت ان کے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ در میان صلح کرانے کے لئے تشریف لے گئے اور بِلال إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں رک گئے اور نماز کا فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى وقت ہو چکا تھا۔حضرت بلال حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حُبِسَ وَقَدْ حَانَتِ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ابوبکر ! رسول اللہ الصَّلَاةُ فَهَلْ لَكَ أَنْ تَؤُمَّ النَّاسَ قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے ہیں اور نماز کا وقت ہو گیا نَعَمْ إِنْ شِئْتَ فَأَقَامَ بِلال الصَّلَاةَ ہے۔کیا آپ لوگوں کی امامت کریں گے؟ انہوں