صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 595
صحيح البخاري جلد ٢ ۵۹۵ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة عَنْ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ سے اعمش نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے علقمہ قَالَ كُنتُ أُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ سے علقمہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ کہ انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جبکہ آپ نماز میں ہوتے سلام کیا کرتا تھا اور آپ مجھے جواب عَلَيَّ فَلَمَّا رَجَعْنَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ دیتے تھے۔جب ہم لوٹ کر آئے تو میں نے آپ کو عَلَيَّ وَقَالَ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغُلًا۔سلام کیا۔آپ نے جواب نہ دیا اور (بعد میں ) فرمایا: اطرافه: ۱۱۹۹، ۳۸۷۵ نماز میں بھی ایک مصروفیت ہوتی ہے۔:۱۲۱۷ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا :۱۲۱۷ ابو معمر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيْرٍ عبد الوارث نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ كثير بن شنظیر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عطاء بن عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَنِي رباح سے ، عطاء نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہا ، رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی سے روایت کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے حَاجَةٍ لَهُ فَانْطَلَقْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ وَقَدْ اپنے کسی کام کے لئے مجھے بھیجا۔میں چلا گیا۔پھر قَضَيْتُهَا فَأَتَيْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ میں وہ کام پورا کر کے واپس لوٹا۔میں نبی ﷺ کے وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ پاس آیا اور آپ کو سلام کیا۔تو آپ نے مجھے جواب فَوَقَعَ فِي قَلْبِي مَا اللَّهُ أَعْلَمُ بِهِ فَقُلْتُ نہ دیا۔میرے دل میں جو خیال آئے انہیں اللہ ہی بہتر فِي نَفْسِي لَعَلَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ جانتا ہے۔میں نے اپنے جی میں کہا: شاید رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَيَّ أَنِّي أَبْطَأْتُ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر ناراض ہیں۔اس لئے کہ میں عَلَيْهِ ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ نے دیر کر دی ہے۔پھر میں نے آپ کو سلام کیا تو فَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَشَدُّ مِنَ الْمَرَّةِ الْأَوْلَى آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔اس پر میرے دل کو ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ فَقَالَ إِنَّمَا پہلے سے بھی زیادہ صدمہ ہوا۔پھر میں نے آپ کو مَنَعَنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي سلام کیا تو آپ نے مجھے جواب دیا اور فرمایا: میں نماز