صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 590
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۹۰ ۲۱ - كتاب العمل في الصلاة اسْتَفْتَحَ بِسُورَةٍ أُخْرَى ثُمَّ رَكَعَ حَتَّى آپ نے ایک لمبی سورۃ پڑھی۔پھر آپ نے رکوع کیا قَضَاهَا وَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي اور دیر تک رکوع میں رہے۔اس کے بعد آپ نے سر الثَّانِيَةِ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اٹھایا اور پھر ایک دوسری سورۃ شروع کی۔پھر آپ نے اللَّهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَصَلُّوْا حَتَّى رکوع کر کے یہ رکعت ختم کی اور سجدہ میں گئے۔پھر يُفْرَجَ عَنْكُمْ لَقَدْ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي آپ نے دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔( نماز سے هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وَعِدْتُهُ حَتَّى لَقَدْ فارغ ہونے کے بعد ) آپ نے فرمایا: یہ اللہ تعالی کے رَأَيْتُنِي أُرِيْدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ نشانوں میں سے دونشان ہیں۔سو جب تم گرہن دیکھو حِيْنَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ تو نماز پڑھو۔یہاں تک کہ گرہن تم سے ہٹادیا جائے۔رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا میں نے اپنے اس مقام میں ہر وہ شئی دیکھ لی ہے جس حِيْنَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ وَرَأَيْتُ فِيْهَا کا مجھے وعدہ دیا گیا تھا۔یہاں تک کہ میں نے یہ بھی عَمْرَو بْنَ لُحَيَّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ دیکھا کہ میں جنت کا ایک خوشہ لینا چاہتا ہوں۔یہ اس وقت کہ جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھنے لگا السَّوَائِب۔ہوں اور جب تم نے مجھے دیکھا کہ پیچھے کو ہٹا ہوں تو اس وقت میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو جسم کر رہا ہے اور اس میں میں نے عمرو بن لھی کو دیکھا اور اسی نے سائبہ بنانے کی رسم ڈالی تھی۔ہے اطرافه: ١٠٤٤، 10٤٦، 1047، 1050، 1056، 1058، 1064، 1066، ٤٦٢٤، ٦٦٣١،٥٢٢١ ،۳۲۰۳ ،۱۳۷۲ تشریح: إِذَا انْفَلَتَتِ الدَّابَّةُ فِى الصَّلاةِ : بلا ضرورت نماز میں ہلنا یا ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔بلکہ فقہاء نے اسے قطعاً نا جائز سمجھا اور بالاتفاق یہ فتویٰ دیا ہے کہ زیادہ حرکت کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے اور یہ صحیح فتویٰ ہے۔حضرت ابو برزہ کا جو واقعہ بابا کے ذیل میں درج ہے، وہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے نماز پڑھتے وقت گھوڑے کی لگام بطور احتیاط کے اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی تھی کہ اتنے میں گھوڑا ابد کا اور انہوں نے اس کو نہیں چھوڑا۔بلکہ السَّائِبَةُ: وہ اونٹنی جو چراگاہ میں کھلی چھوڑ دی جائے۔نہ پانی کے حوض سے اسے روکا جائے اور نہ چارے سے اور جاہلیت میں یہ اس وقت کرتے تھے جب کوئی اونٹنی پانچ بچے دے دیتی ( تفسیر صغیر سورة المائدة -آیت ۱۰۴ حاشیه صفحه ۱۵۹)