صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 591
صحیح البخاری جلد ۲ ۵۹۱ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة ذرا آگے بڑھ کر اس کو قابو میں رکھا ہے۔ ان کے اس فعل پر ایک خارجی نے اعتراض کیا۔ جس پر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلوک کا حوالہ دیا۔ یعنی یہ کہ آپ مسائل میں شدت نہیں بلکہ سہولت کی راہ اختیار کرتے تھے اور کہا یہ مناسب نہیں کہ میدانِ جہاد میں گھوڑے کو چھوڑ کر ایک طرف تو میں بے سروسامان ہو جاؤں اور اس کی تلاش میں مارا مارا پھروں اور دوسری طرف نماز میں تشویش رہے کہ وہ کہاں چلا گیا ہے؟ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر اس کو ٹھہرالوں ۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کی نظر مسائل میں وسیع تھی۔ امام بخاری نے دوسری روایت سے حضرت ابو برزہ کی رائے سے اتفاق کیا ہے کہ تھوڑی حرکت سے نماز نہیں ٹوٹتی ۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بحالت کشف آگے بڑھے اور پیچھے ہٹے اور اس سے آپ کی نماز میں کوئی فرق نہیں آیا۔ عنوان باب میں قتادہ کے فتوی کا جو حوالہ دیا گیا ہے، وہ مسند عبد الرزاق میں منقول ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ اگر کنوئیں پر بچہ دیکھے تو نماز چھوڑ کر بچے کو سنبھالے۔ (مصنف عبد الرزاق، كتاب الصلاة، باب الرجل يكون فى الصلاة فيخشى ان يذهب دابته او يرى الذى یخافه، روایت نمبر ۳۲۹۰ جزء ۲ صفحہ ۲۶۲) تفصیل کے لیے دیکھئے: فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۱۰۶۔ عمرو بن لحی : یہ خزاعہ قبیلے کا سردار تھا جو پہلے علاقہ یمن میں آباد تھے۔ لیکن سیل ازم کے بعد اس قبیلہ نے وہاں سے ہجرت کی اور حجاز میں آگئے ۔ یہاں جرہم قبیلہ بہت کمزور ہو چکا تھا اور تاریخ قدیم سے پایا جاتا ہے کہ انہوں نے بیت اللہ کی حرمت کا پاس نہیں رکھا اور ظلم و تعدی میں لھا اور ظلم و تعدی میں حد سے بڑھ گئے ۔ خزاعہ قبیلہ ان پر غالب آج ان پر غالب آیا اور ان کا سردار عمر وب اسردار عمر و بن لھی بیت اللہ کا متولی ہوا اور قبائل عرب نے جو جرہم قبیلے کے ظلموں سے تنگ آچکے تھے ، بخوشی اس کی اطاعت قبول کی اور اس کے لنگر سے حاجی کھانا کھاتے اور تاریخ سے ثابت ہے کہ اسی شخص نے بیت اللہ میں بت رکھوائے اور بت پرستی جاری کی اور بتوں کے نام پر سانڈ چھوڑے۔ تاریخ میں یہ بھی ذکر آتا ہے کہ عمرو بن بھی اپنی شدید بیماری کے علاج کے لئے بعض لوگوں کے مشورے کے مطابق شام کی بلقاء وادی میں گیا۔ جہاں ایک گرم چشمہ تھا۔ جس میں نہانے سے بیمار شفایاب ہوتے ، اسے بھی شفاء ہوئی اور وہاں اس نے بعض بت دیکھے جن کی عبادت کی جاتی تھی۔ وہیں سے وہ بعض بت لے آیا اور خانہ کعبہ میں لا کر رکھے اور لوگوں کو ان کی عبادت کی ترغیب دلائی۔ شعراء جاہلیت میں سے بعض نے بھی اپنے شعروں میں اس امر کا ذکر کیا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے شہرستانی کی کتاب الملل والنحل۔ بلوغ الارب في تاريخ العرب۔ اديان العرب في الجاهليه مؤلفه محمد نعمان الجارم -