صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 589
ری جلد ۲ ۵۸۹ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة ☆ عَلَى جُرُفِ نَهَرٍ إِذَا جَاءَ } رَجُلٌ تھے اور میں ایک نہر کے کنارے بیٹھا تھا۔اتنے میں يُصَلِّي وَإِذَا لِجَامُ دَايَّتِهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَتِ ایک شخص آیا اور نماز پڑھنے لگا اور اس وقت جانور الدَّابَّةُ تُنَازِعُهُ وَجَعَلَ يَتْبَعُهَا قَالَ شُعْبَةُ کی لگام اس کے ہاتھ میں تھی۔جانور اس کو کھینچنے لگا هُوَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ فَجَعَلَ رَجُلٌ اور وہ اس کے پیچھے چلتا گیا۔شعبہ کہتے تھے: یہ مِنَ الْحَوَارِج يَقُوْلُ اللَّهُمَّ افْعَلْ بِهَذَا حضرت ابو برزہ اسلمی تھے تو خارجیوں میں سے ایک الشَّيْخِ فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّيْخُ قَالَ إِنِّي شخص کہنے لگا: اے اللہ ! اس بوڑھے کا ناس کر۔جب سَمِعْتُ قَوْلَكُمْ وَإِنِّي غَزَوْتُ مَعَ وہ بوڑھا نماز سے فارع ہوا تو اس نے کہا: میں نے رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ تمہاری بات سن لی ہے۔میں نے رسول اللہ ﷺ کی غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَثَمَانِيًا معیت میں چھ سات یا آٹھ جنگیں کی ہیں اور میں وَشَهِدْتُ تَيْسِيْرَهُ وَإِنِّي إِنْ كُنْتُ أَنْ دیکھ چکا ہوں جو آسانی آپ دیا کرتے تھے اور مجھے تو أَرْجِعَ مَعَ دَابَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ یہ بات زیادہ پسند ہے کہ میں اپنے جانور کو لے کر واپس آؤں بہ نسبت اس کے کہ اسے چھوڑ دوں کہ وہ اپنی چراگاہ میں چلا جائے اور پھر یہ بات مجھے تکلیف أَدَعَهَا تَرْجِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقَّ عَلَيَّ۔اطرافه: ٦١٢٧۔دیتی رہے۔۱۲۱۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل :۱۲۱۲ محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا :) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ عبد الله بن مبارک) نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ نے کہا: یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، حَسَفَتِ الشَّمْسُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى زہری نے عروہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ سُوْرَةً طَوِيْلَةً ثُمَّ حضرت عائشہ کہتی تھیں: سورج گرہن ہوا تو نبی رَكَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ صلى اللہ علیہ وسلم (نماز کے لئے) کھڑے ہوئے۔لفظ " جَاءَ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۱۰۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔