صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 588
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۸۸ ۲۱ - كتاب العمل في الصلاة اشارہ سے پاؤں سمیٹنے کے لیے کہا۔ دوسرے بحالت کشف جس کی تفصیل روایت نمبر ۴۶۱ میں بھی گزر چکی ہے اور وہاں بتایا گیا ہے کہ امام بخاری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کشف سے جو ایک روحانی نظارہ ہے؛ مسئلہ مستنبط کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ آپ کو اس قسم کا مکاشفہ دو دفعہ ہوا۔ ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں ۔ آپ نے یہ پیشگوئی یہ پیشگوئی بھی کی ہے: سَيَعُودُ (الْإِسْلَامُ) كَمَا بَدَأَ ۔ (مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان ان الإسلام بدء غريبا وسيعود غریبا) ایک زمانہ آئے گا جب اسلام کی پھر ویسی حالت ہو جائے گی جیسی شروع میں تھی۔ یعنی مکی زندگی کی سی۔ جبکہ مسلمان مشرکوں کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے اور آپ کے دو مشاہدوں سے ظاہر ہے کہ شیطان اسلام کو مٹانے کے لئے دو دفعہ حملہ کرے گا اور آخری حملے میں بھی وہ اسلام کے مٹانے کے لئے آگ سے کام لے گا۔ جس کی وجہ سے قرآن کریم کے خاتمہ پر اس کا نام ابولہب رکھا گیا ہے۔ اس لئے کہ وہ موجد ہوگا ایسی جنگ کا جس میں آگ ہی آگ استعمال کی جائے گی ۔ تَبَّتُ يَدَا أَبِي لَهَبٍ و تَبَّ ۔ ( الہب : ۲) یہ آخری ابولہب اسلام کے مقابلہ میں خود بھی تباہ ہوگا اور اس کی ساری کوششیں بھی رائیگاں جائیں گی اور اس کا ساخته و پرداختہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔ یہ تفسیر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کشف کی ۔ (اس تعلق میں دیکھئے کتاب الصلوۃ تشریح باب ۷۵ روایت نمبر ۴۶۱) اور اس سورۃ - سورة کے بعد سورة قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ ہمیں تلقین کرتی ہے کہ اس آخری ابولہب یعنی دجال کے زمانہ میں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی پناہ نہ ہوگی اور مسلمانوں کا فرض ہوگا کہ توحید باری تعالی کا اعلان کریں اور مسیحی مذہب کے فتنہ کا قلع قمع کریں۔ یہی ایک ذریعہ ہے اس آخری ابولہب کے فتنہ سے نجات پانے کا۔ جس کا نام قدیم سے نوشتوں میں دجال اکبر رکھا گیا ہے اور جس کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ اس کے ایک ہاتھ میں جہنم ہوگا اور دوسرے ہاتھ میں جنت (ابن ماجه، كتاب الفتن، باب فتنة الدجال) نیز تفصیل کے لیے دیکھئے: تفسیر کبیر مؤلفہ حضرت مصلح موعود - تفسير سورة اللهب - جلد۱۰ صفحه ۰۲ ۵ تا ۵۱۵ - بَاب ۱۱ : إِذَا انْفَلَتَتِ الدَّابَّةُ فِي الصَّلَاةِ نماز پڑھتے اگر جانور چھوٹ جائے وَقَالَ قَتَادَةُ إِنْ أُخِذَ ثَوْبُهُ يَتْبَعُ السَّارِقَ اور قتادہ نے کہا: اگر اس کا کپڑا چرایا جائے تو وہ چور کا وَيَدَعُ الصَّلَاةَ ۔ پیچھا کرے اور نماز چھوڑ دے۔ ۱۲۱۱: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۱۲۱۱: آدم نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا:) شعبہ نے حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ كُنَّا ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) از رق بن قیس بِالْأَهْوَازِ تُقَاتِلُ الْحَرُوْرِيَّةَ فَبَيْنَا أَنَا نے ہمیں بتایا، کہا: ہم اہوز میں خارجیوں سے لڑ رہے