صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 587 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 587

خاری جلد ۲ ۵۸۷ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَإِذَا میں اپنے پاؤں دراز کئے ہوتی اور آپ نماز پڑھ رہے سَجَدَ غَمَزَنِي فَرَفَعْتُهَا فَإِذَا قَامَ ہوتے۔جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے ہاتھ سے دبا دیتے اور میں پاؤں سمیٹ لیتی۔جب آپ کھڑے ہوتے تو مَدَدْتُهَا۔میں پاؤں لمبا کر لیتی۔اطرافه ۳۸۲، ۳۸۳، ۳۸۴، ۵۰۸، ۵۱۱، ۵۱۲، ۵۱۳، 514، 515، 519، ۹۹۷، ٦٢٧٦۔۱۲۱۰: حَدَّثَنَا مَحْمُوْدٌ حَدَّثَنَا ۱۲۱۰ محمود ( بن غیلان) نے ہم سے بیان کیا، شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُّحَمَّدِ بْن زِيَادٍ ) کہا : ( شابهہ (بن سوار ) نے ہم سے بیان کیا۔) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ( انہوں نے کہا: ) شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةً قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ بن زیاد سے، محمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عَرَضَ لِي فَشَدَّ عَلَيَّ لِيَقْطَعَ الصَّلَاةَ سے، حضرت ابو ہریرۃ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيَّ فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ فَدَعَتُهُ وَلَقَدْ روایت کی کہ آپ نے ایک دفعہ نماز پڑھی اور فرمایا: هَمَمْتُ أَنْ أُوْثِقَهُ إِلَى سَارِيَةٍ حَتَّى حملہ کیا تا کہ میری نماز توڑ دے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے تُصْبِحُوْا فَتَنْظُرُوْا إِلَيْهِ فَذَكَرْتُ قَوْلَ سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلامُ رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لا اس پر قابو دیا اور میں نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے زمین پر پنچا اور میں نے ارادہ کیا کہ اس کو ستون سے لَّا شیطان میرے سامنے آیا اور اُس نے مجھ پر زور سے يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي (ص : ٣٦) باندھ دوں تا کہ صبح تم اسے دیکھو۔مگر مجھے سلیمان فَرَدَّهُ اللهُ حَاسِيًا } اطرافه ٤٦١، ۳۲٨٤، ٣٤۲۳، ٤٨٠٨ علیہ السلام کا یہ قول یاد آیا: {اے میرے رب ! مجھے ایک ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد اُس پر اور کوئی نہ بچے۔) پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو ذلیل و خوار کر کے لوٹا دیا۔37 تشريح : مَا يَجُوزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلاة : سابقہ تمام ابواب بی تانے کے لئے باندھے گئے ہیں کہ : یہ کس قسم کا فعل نماز میں بحالت مجبوری جائز ہے؟ اس باب میں دو موقعوں کا ذکر ہے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت نماز ہاتھ سے کوئی کام کیا ہے۔ایک تو حضرت عائشہ کو جو سامنے سوئی ہوئی تھیں؛ ہاتھ کے م حدیث کے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۱۰۵)