صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 586
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۸۶ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة پیدا ہوتی ہے جو اس میں کی جاتی ہیں ۔ سجدہ کا حقیقی مفہوم محفوظ رکھنے کے لئے شارع اسلام علیہ السلام نے بار بار مٹی ہٹانے کو نا پسند فرمایا ہے۔ بسا اوقات جگہ ایسی ہوتی ہے کہ سجدہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں کنکریاں وغیرہ پرے ہٹا سکتا ہے مگر اس کام میں لگا نہ رہے، ایک دفعہ ہاتھ سے ہٹا دے۔ باب ۹ : بَسْطُ الثَّوْبِ فِي الصَّلَاةِ لِلسُّجُودِ سجدہ کرنے کے لئے نماز میں کپڑا بچھانا۔ ۱۲۰۸ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۲۰۸ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: بشر ( بن بِشْرٌ حَدَّثَنَا غَالِبٌ عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مفضل) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا:) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ غالب ( قطان ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے بکر كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن عبدالله (مزنی) سے، بکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم گرمی کی وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ شدت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ کرتے تھے۔ اگر ہم میں سے کوئی زمین پراپنی پیشانی بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ۔ اطرافه: ٣٨٥، ٥٤٢۔ نہ لگا سکتا تو وہ اپنا کپڑا بچھاتا اور اس پر سجدہ کرتا۔ تشريح : بَسْطُ الثَّوْبِ فِي الصَّلَاةِ السُّجُودِ : اس مسلہ میں بھی بعض فقہاء نے اختلاف کیا ہے مگر گرمی کی شدت میں طبیعت کی پریشانی اور گھبراہٹ دور کرنے کے لئے کوئی حرج نہیں کہ کپڑا بچھا لیا جائے ۔ اس تعلق میں کتاب مواقيت الصلوة ، روایت نمبر ۵۴۲ کی تشریح بھی دیکھئے۔ باب ١٠ : مَا يَجُوْزُ مِنَ الْعَمَلِ فِي الصَّلَاةِ جو کام نماز میں کرنا جائز ہے ۱۲۰۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۱۲۰۹ : عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابونضر سے، ابونضر نے سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے قَالَتْ كُنْتُ أَمُدُّ رِجْلِي فِي قِبْلَةِ النَّبِيِّ روایت کی ۔ وہ کہتی تھیں : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ