صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 585
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۸۵ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة تَزْعُمُ أَنَّ وَلَدَهَا لِي قَالَ يَا بَابُوسُ مَنْ ہے؟ اس نے کہا: جریج کا جو اپنے عبادت خانہ سے اتر کر میرے پاس آیا کرتا تھا۔ جریج نے کہا: یہ عورت کہاں ہے أَبُوْكَ قَالَ رَاعِي الْغَنَمِ۔ اطرافه ٢٤٨٢، ٣٤٣٦، ٣٤٦٦۔ جو کہتی ہے کہ اس کا بچہ میرا بچہ ہے؟ ( جب بچہ ان کے پاس لایا گیا) تو انہوں نے (بچے سے) پوچھا؟ بچے! تیرا ہے؟ تو اس نے جواب دیا۔ بکریوں کا چرواہا ۔ باپ کون تشريح : إِذَا دَعَتِ الْأَمْ وَلَدَهَا فِي الصَّلاةِ: آیا نماز می اپنی ماںکو جواب دے یا خاموش رہے یا اگر جواب دے تو کیا اس کی نماز باطل ہو جائے گی ؟ اس مسئلے کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ امام بخاری کے نزدیک سوائے مذکورہ بالا روایت کے اور کوئی روایت نہیں اور یہ روایت بھی بنی اسرائیل کا ایک قصہ ہے۔ جس سے شرعی مسئلہ کا استنباط نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لئے امام موصوف نے عنوان باب میں جملہ شرطیہ کا جواب حذف کر دیا ہے۔ باب ۸ : مَسْحُ الْحَصَى فِي الصَّلَاةِ نماز میں کنکریاں ہٹانا ۱۲۰۷: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۱۲۰۷: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) شیبان شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے بھی ( بن ابی کثیر ) سے، حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ کی نے ابوسلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي معيقيب ( بن ابی فاطمہ ) نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی التَّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ إِنْ كُنْتَ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے متعلق ؛ جو فَاعِلاً فَوَاحِدَةً۔ ؛ جو جہاں سجدہ کرتا، وہاں سے مٹی برابر کرتا ؛ فرمایا: اگر تم نے کرنا ہی ہے تو ایک ہی بار کرو۔ تشريح : مَسْحُ الْحَصَى فِي الصَّلَاةِ: روایت نمبر ۱۰۷ سے معلوم ہوتا ہے کہ بیصلی اللہ علیہ سلم نے ناپسند فرمایا کہ انسان سجدہ کرتے وقت زمین سے مٹی وغیرہ دور کرے جو حالت خشوع و خضوع کے منافی ہے اور توجہ الی اللہ کے خلاف ہے۔ بلکہ اس سے سجدہ کی غرض ہی کالعدم ہو جاتی ہے ۔ سجدہ کا تو یہ تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں پیشانی خاک آلود ہوتی ہو تو ہو اور اس کی راہ میں ساری آبروئیں جاتی رہیں تو جائیں ۔ ماتھے پر تلک کا ٹیکہ لگا کر وہ انکساری اور عاجزی اور فناء فی اللہ کی حالت دل میں پیدا نہیں ہو سکتی، جو اسلامی سجدہ اور اس کی تسبیح و تحمید اور ان دعاؤں سے