صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 44 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 44

البخاری جلد ۲ بوم بوم ١٠ - كتاب الأذان تشریح : وُجُوبُ صَلوةِ الْجَمَاعَة : عمار نے یہ بحث اٹھائی ہے کہ آیا جماعت نماز پڑھنا فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟ کیا ہر فرد کا اس میں شامل ہونا ضروری ہے یا نماز جنازہ کی طرح بعض کا شامل ہونا ؟ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عنوان باب میں حسن بصری کا جو حوالہ دیا ہے اس سے نوعیت وجوب بتانی مراد ہے۔کیونکہ حسن بصری کے نزدیک باجماعت نماز فرض عین ہے۔جو والدہ کے کہنے سے بھی چھوڑا انہیں جاسکتا۔حسن بصری کے اس فتویٰ کی تفصیل کے لئے فتح الباری ( جزء ثانی صفحہ ۱۶۵) دیکھئے۔حدیث نبوی سے جو زیر نمبر ۶۴۴ منقول ہے، باجماعت نماز کی فرضیت عین ہی ثابت ہوتی ہے۔کیونکہ اگر با جماعت نماز پڑھنا ہی فرض کفایہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو سراسر رحمت تھے اور اعمال میں ہمیشہ سہولت پسند فرماتے تھے باجماعت نماز میں شریک نہ ہونے والوں پر اتنی ناراضگی کا اظہار نہ فرماتے۔کتاب مواقیت الصلوۃ باب نمبر ۲ میں یہ امر واضح کیا جاچکا ہے کہ نماز فریضہ در حقیقت ایک اجتماعی نماز ہے، جو جماعت کے ساتھ ہی ادا ہونی چاہیے اور اوقات کی پابندی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اجتماعی نماز ہے۔روایت ۳۱ ۷ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں گھروں میں نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے، وہاں إِلَّا الْمَكْتُوبَہ کہ کر اس کو مستقلی فرما دیا ہے۔اُخَالِفُ إِلى رِجَال : لفظ خَالَفَ کئی مفاہیم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ایک استعمال یہ ہے کہ وہ ان کے پاس آیا جایا کرتا ہے۔دوسرا استعمال لفظ خالف کا یہ ہے کہ جب کوئی کسی کے پاس نہ آئے تو کہتے ہیں خَالَفَ اِلی فُلَانِ کہ وہ فلاں کے پاس نہیں گیا۔تیسرا استعمال یہ ہے کہ جس کام کے کرنے کا ارادہ کیا گیا ہو اس کو چھوڑ کر اور کام کرنا۔(لسان العرب - تحت لفظ خلف) ترجمہ میں دونوں مفہوم جمع کر دئے گئے ہیں۔عَرْقًا سَمِينًا اَوْمِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ : جن شارحین نے مِرمَاةً کے معنی کھیل یا تیر کے لئے ہیں انہوں نے بلاغت کلام کی طرف توجہ نہیں کی۔یہاں کھانے کی چیز مراد ہے نہ کوئی کھیل۔گو مِرماة اس کھیل کو کہتے ہیں جس میں مٹی کا ایک ڈھیر بنا کر اس پر تیراندازی کی مشق کی جاتی ہے۔جس کا تیر اندر گھس جائے وہ غالب سمجھا جاتا ہے۔(فتح الباری جزء ثانی صفحہ ۱۶۹) مگر اس کے لئے تثنیہ کا صیغہ استعمال کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اس لئے مِرمَاةً سے مراد عرق سمین کا قرینہ ہونے کی وجہ سے گھر ہی ہے۔ان الفاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل دنیا کی حرص کا اظہار فرمایا ہے کہ کھانے کی چیز کتنی معمولی ہو اس کے لئے لوگ دور تک چلے جائیں گے اور نماز جیسی اہم شئے کے لئے دو قدم چلنا دو بھر ہوگا۔باب ۳٠: فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ با جماعت نماز پڑھنے کی فضیات وَكَانَ الْأَسْوَدُ إِذَا فَاتَتْهُ الْجَمَاعَةُ اور جب اسود سے نماز با جماعت رہ جاتی تو وہ ایک ذَهَبَ إِلَى مَسْجِدٍ آخَرَ وَجَاءَ أَنَسٌ اور مسجد کی طرف جاتے اور حضرت انس مسجد کو آئے ،