صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 583
بخاری جلد ۲ ۵۸۳ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة بَاب ٦ : مَنْ رَجَعَ الْقَهْقَرَى فِي صَلَاتِهِ أَوْ تَقَدَّمَ بِأَمْرِ يَنزِلُ بِهِ جو اپنی نماز میں الٹے پاؤں پیچھے ہٹے یا آگے بڑھے ایسے امر کی وجہ سے جو اسے پیش آئے رَوَاهُ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى حضرت سہل بن سعد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ رضي روایت کی۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔١٢٠٥: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۱۲۰۵ بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا:) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ يُونُسُ قَالَ الزُّهْرِيُّ عبدالله بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكِ أَنَّ الْمُسْلِمِيْنَ يونس بن يزید ) نے ہم سے بیان کیا کہ زہری نے بَيْنَا هُمْ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ کہا: حضرت انس بن مالک نے مجھے بتایا۔پیر کے اللهُ عَنْهُ يُصَلِّي بِهِمْ فَفَجَأَهُمُ دن جبکہ مسلمان فجر کی نماز میں تھے اور حضرت ابوبکر النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَشَفَ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک نبی سِتْرَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا صلى الله علیہ وسلم ان کے سامنے آئے۔آپ نے فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ صُفُوفٌ فَتَبَسَّمَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کا پردہ اٹھا کر يَضْحَكُ فَنَكَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انہیں دیکھا اور وہ صف بستہ کھڑے تھے۔آپ عَلَى عَقِبَيْهِ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی مسکرائے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی ایڑیوں اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيْدُ أَنْ يُخْرُجَ إِلَى کے بل پیچھے ہٹے اور خیال کیا کہ رسول اللہ ہے الصَّلَاةِ وَهَمَّ الْمُسْلِمُوْنَ أَنْ يَفْتَتِنُوا فِي نماز کے لئے آنا چاہتے ہیں اور مسلمانوں نے صَلَاتِهِمْ فَرَحًا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو خوشی کے وَسَلَّمَ حِيْنَ رَأَوْهُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا مارے اپنی نمازیں توڑنے کو ہی تھے کہ آپ نے ثُمَّ دَخَلَ الْحُجْرَةَ وَأَرْحَى السِّتْرَ اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ نماز پوری کرو۔پھر آپ حجرہ میں چلے گئے اور پردہ نیچے ڈال دیا اور اسی دن آپ نے وفات پائی۔وَتُوُفِّيَ ذَلِكَ الْيَوْمَ۔اطرافه ٦۸۰، ٦٨١، ٧٥٤، ٤٤٤٨