صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 582 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 582

البخاری جلد ۲ ۵۸۲ ۲۱ - كتاب العمل في الصلاة بَاب ٥ : التَّصْفِيْقُ للنِّسَاءِ تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے ۱۲۰۳: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۱۲۰۳: علی بن عبد اللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ أَبِي ) کہا : ( سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا۔سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ (انہوں نے کہا: ) زہری نے ہمیں بتایا۔انہوں نے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، حضرت ابو ہریرہ نے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے التَّسْبيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ۔روایت کی کہ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے عن لیے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے۔١٢٠٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى أَخْبَرَنَا ۱۲۰۴: حي (بن جعفر ) نے ہم سے بیان کیا ، (کہا: ) وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ وکیچ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سفیان ( ثوری) سے، سَهْلِ بْن سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ سفیان نے ابو حازم ( سلمہ بن دینار ) سے، ابوحازم النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّسْبِيحُ نے حضرت سہل بن سعد سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے للرِّجَالِ وَالتَّصْفِيْقُ لِلنِّسَاءِ۔لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے۔اطرافه ٦٨٤ ، ۱۲۰۱ ، ۱۲۱۸، ۱۲۳۴، ۲۶۹۰، ۲۶۹۳، ۷۱۹۰، تشریح: التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ : اس مسئلہ میں امام مالک اور ایک جماعت کا یہ مذہب ہے کہ امام کے بھولنے پر مرد اور عورتیں دونوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور آنحضرت معہ کا قول: إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ ندمت کے معنوں میں ہے۔یعنی تالی بجانا عورتوں کا کام ہے۔جب صحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آتے دیکھ کر حضرت ابوبکر کو توجہ دلانے کے لئے تالیاں بکثرت بجا ئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ان کا یہ فعل نا پسند کیا اور فرمایا: مَنْ نَّابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللہ جسے اس کی نماز میں کوئی بات پیش آئے تو چاہیے کہ وہ سبحان اللہ کہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۳۱۸) امام شافعی کا یہ مذہب ہے کہ عورت کے لئے تسبیح و تصفیق میں جو امتیاز ملحوظ رکھا گیا ہے، اس پر عمل کرنا چاہیے۔(عمدۃ القاری - جزء ے صفحہ ۲۷۹) امام بخاری نے باب ۳ و باب ۵ کا علیحدہ علیحدہ عنوان قائم کر کے امام موصوف کی تائید کی ہے۔