صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 581
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۸۱ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة باب ٤ مَنْ سَمَّى قَوْمًا أَوْ سَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى غَيْرِهِ مُوَاجَهَةً وَهُوَ لَا يَعْلَمُ جس نے نماز میں کسی قوم کا نام لیا یا ( کسی کو سلام کیا بغیر اس کے کہ سا۔ سامنے ہو اور اسے علم بھی نہ ہو ۱۲۰۲ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عِيسَى :۱۲۰۲: عمرو بن عیسی نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ابو عبد الصمد عبدالعزیز بن عبدالصمد نے ہم سے بیان عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ کیا۔ انہوں نے کہا:) حصین بن عبدالرحمن نے الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو وائل سے، ابووائل نے مَسْعُودٍ لا قَالَ كُنَّا نَقُولُ التَّحِيَّةُ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی فِي الصَّلَاةِ وَتُسَمِّي وَيُسَلِّمُ بَعْضُنَا کہ انہوں نے کہا: ہم نماز میں التحیات پڑھا کرتے عَلَى بَعْضٍ فَسَمِعَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ تھے اور (لوگوں کا) نام لیا کرتے تھے اور ایک فَقَالَ قُوْلُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ مرے کو سلام کرتے۔ دوسرے رتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سنا تو فرمایا: یوں کہا کرو: زبان سے متعلقہ تمام وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور بدنی عبادتیں اور مالی أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عبادتیں بھی ( اللہ ہی کے لئے ہیں ) اے نبی تجھ پر عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ سلامتی اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں اور أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ سلامتی ہو ہم پر بھی اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَإِنَّكُمْ إِنْ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ! معبود ہیں اور یہ فَعَلْتُمْ ذَلِكَ فَقَدْ سَلَّمْتُمْ عَلَى كُلِّ عَبْدِ محمد اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔ کیونکہ جب تم لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ۔ نے یہ کہا تو تم نے اللہ تعالیٰ کے ہر نیک بندے کو جو زمین و آسمان میں ہے سلامتی کی دعا دی۔ اطرافه: ۸۳۱، ٨٣۵، ٦٢٣٠، ٦٢٦٥، ٦٣٢٨، ٧٣٨١۔ الو تشريح : مَنْ سَمَّى قَوْمًا أَوْ سَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ: کسی کو مخاطب کرتے ہو رتے ہوئے نماز میں سلام کرنا سلام کرنا جائز التحیات میں جو دعا کی جاتی ہے وہی کافی ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے تشریح روایت نمبر ۸۳۱، ۱۲۲۱۔ نہیں