صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 580 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 580

البخاری جلد ۲ ۵۸۰ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة وَحَانَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ بِلال أَبَا بَكْر کرانے کے لئے باہر گئے ہوئے تھے اور نماز کا وقت رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ حُبِسَ النَّبِيُّ آ گیا۔حضرت بلال حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَؤُمُّ النَّاسَ قَالَ پاس آئے اور کہا: نبی ﷺے تو رک گئے ہیں۔اس لئے نَعَمْ إِنْ شِئْتُمْ فَأَقَامَ بِلال الصَّلَاةَ آپ لوگوں کی امامت فرما ئیں۔انہوں نے کہا: اچھا فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّی اگر تم ایسا ہی چاہتے ہو۔حضرت بلال نے نماز کے لیے فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تکبير اقامت کہی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آگے بڑھے يَمْشِي فِي الصُّفُوفِ يَشْقُهَا شَقًّا حَتَّى اور نماز شروع کی۔اتنے میں نبی و صفوں کو چیرتے ہوئے تشریف لے آئے۔یہاں تک کہ پہلی صف میں قَامَ فِي الصَّفِ الْأَوَّلِ فَأَخَذَ النَّاسُ آپ کھڑے ہو گئے اور لوگوں نے تصفح شروع کر دی۔بِالتَّصْفِيْحِ قَالَ سَهْلٌ هَلْ تَدْرُوْنَ مَا حضرت سہل نے کہا: کیا آپ جانتے ہیں تصفیح کیا ہوتی التَّصْفِيْحُ هُوَ التَّصْفِيْقُ وَكَانَ أَبُو بَكْر ہے؟ تالی بجانا اور حضرت ابو بکر نماز میں کسی اور طرف رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يَلْتَفِتْ فِي صَلَاتِهِ دھیان نہیں کرتے تھے۔جب لوگوں نے بہت تالیاں فَلَمَّا أَكْثَرُوا الْتَفَتَ فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى بجائیں تو انہوں نے مڑ کر دیکھا۔تو کیا دیکھتے ہیں: نبی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّفِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ لالالا صف میں ہیں۔آپ نے اشارہ کیا کہ اپنی مَكَانَكَ فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَيْهِ فَحَمِدَ اللَّهَ جگہ کھڑے رہیں۔حضرت ابو بکر نے اپنے دونوں ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى وَرَاءَهُ وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ ہاتھ اُٹھائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی۔پھر اُلٹے پاؤں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى۔پیچھے کو ہٹے اور نبی ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔الله اطرافه: ٦٨٤، ۱۲۰٤، ۱۲۱۸، ۱۲۳۶، ۲۶۹۰، ۲۶۹۳، ۷۱۹۰، تشریح مَا يَجُوزُ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالْحَمْدِ فِى الصَّلَاةِ لِلرِّجَالِ : باب ۵ کی روایتوں میں اس بات کی تصریح ہے کہ عورتیں اگر امام کو بھولنے پر توجہ دلانا چاہیں تو وہ تالی بجا کر توجہ دلا سکتی ہیں۔اس وجہ سے اس عنوانِ باب میں مردوں کی تخصیص کی گئی ہے۔جس واقعہ سے تسبیح وتحمید کا استدلال کیا گیا ہے وہ روایت نمبر ۶۸۴ میں گذر چکا ہے۔اس میں تحمید و تسبیح دونوں کا ذکر ہے۔