صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 579 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 579

البخاری جلد ۲ ۵۷۹ ۲۱ - كتاب العمل في الصلاة حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ جب ہم حیشہ سے لوٹے تو ہم نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلام کا جواب نہیں دیتے تھے۔حضرت ابن مسعود ان مہاجرین سابقین میں سے تھے جنہوں نے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں ہی تھے، جب وہ حبشہ سے لوٹ آئے۔اس سے بعض علماء نے یہ نتیجہ نکالا کہ مکہ میں ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کلام کرنا منع فرمایا تھا اور قُومُوا لِلَّهِ قَانِتِین کا حکم بعد میں نازل ہوا ہے جو اپنے معنوں میں عمومیت کا رنگ رکھتا ہے اور خاموش رہنے کے مفہوم پر بھی۔بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ نبی اپنے اجتہاد کی بناء پر کوئی بات مناسب سمجھتا ہے اور اس کے اجتہاد کے مطابق حکم نازل ہوتا ہے۔حضرت زید بن ارقم کی روایت نمبر ۱۲۰۰ سے متعلق ان علماء نے یہ تاویل کی ہے کہ ان کی قوم ہجرت سے پہلے مدینہ میں جبکہ حضرت مصعب بن عمیر ان کو نماز پڑھایا کرتے تھے، نماز میں بات کر لیا کرتے تھے اور ان کو نبی علے کی ممانعت کا علم نہ تھا ، بعد میں علم ہوا اور قرآن مجید میں تصریح وارد ہوئی۔علماء کا ایک اور فریق ہے۔جس کی یہ رائے ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے حبشہ کی طرف دو دفعہ ہجرت کی تھی۔دوسری ہجرت سے اس وقت واپس آئے تھے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ جاچکے تھے اور بدر کی لڑائی شروع ہوئی تھی۔حضرت ابن مسعود بھی اس جنگ میں شریک ہوئے تھے اور اس وقت قُومُوا لِلَّهِ قَانِتِین کا حکم نازل ہو چکا تھا۔(تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۹۶، ۹۷) جونسی بھی صورت لی جائے۔یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ آیت کسی پہلے حکم کی ناسخ ہے۔زیادہ سے زیادہ یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں لوگوں کو بھی سلام کا جواب دیا۔پھر رک گئے۔خواہ اس وجہ سے کہ آپ نے خود مناسب نہ سمجھا۔یا اس لئے کہ قرآن مجید کا حکم نازل ہوا تھا۔روایات کی ترتیب سے امام موصوف کی یہ رائے معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اجتہاد سے نماز میں بولنا پسند نہیں کیا۔بعد میں حکم قُوْمُوا لِلَّهِ قَانِتِین نازل ہوا۔بَاب ٣ : مَا يَجُوْزُ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالْحَمْدِ فِي الصَّلَاةِ لِلرِّجَالِ مردوں کے لئے نماز میں جو تسبیح وتحمید کرنا جائز ہے ۱۲۰۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ :۱۲۰۱ عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ کیا، کہا: ) عبدالعزیز بن ابی حازم نے ہمیں بتایا۔أَبِيْهِ عَنْ سَهْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سهل بن سعد ) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کے درمیان صلح