صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 578
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۷۸ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ (محمد بن عبداللہ ) بن نمیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ عَنِ الحق بن منصور (سلولی ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ کہا: بُریم بن سفیان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى ہے، اعمش نے ابراہیم (بھی) سے، ابراہیم نے علقمہ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ۔ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ۔ ۱۲۰۰ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۱۲۰۰ ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا، أَخْبَرَنَا عِيسَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنِ (کہا:) عیسی ( بن یونس ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ عَنْ أَبِي عَمْرٍو اسماعیل (بن ابی خالد ) سے، اسماعیل نے حارث الشَّيْبَانِي قَالَ قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ إِنْ بن عبیل سے، حارث نے ابو عمرو ( سعد بن ابی ایاس ) كُنَّا لَتَتَكَلَّمُ فِي الصَّلاةَ عَلَى عَهْدِ شیبانی سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت زید النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُ بن ارقم نے مجھ سے کہا ہم نماز میں بی صل اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں باتیں کیا کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی أَحَدُنَا صَاحِبَهُ بِحَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ اپنے ساتھی سے اپنے کام کے متعلق باتیں کرتا ۔ آخر حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ (البقرة: ۲۳۹) فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ۔ اطرافه: ٤٥٣٤۔ یہ آیت نازل ہوئی ۔ نمازوں کی حفاظت کرو (اور اس نماز کی جو کاروبار کے درمیان ہو اور اللہ کے لیے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔ ) پھر ہمیں خاموش رہنے کا حکم ہوا۔ ۱۱۹۹ سے صلى الله : تشريح : مَا يُنْهَى مِنَ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ : روایت نمبر ۱۹ اس ظاہر ہے کہ ابتدا میں نبی ﷺ نماز en میں السلام علیکم کا جواب دے دیا کرتے تھے اور آپ نے بعد میں اسے ترک کر دیا۔ یہاں شارحین نے ناسخ و منسوخ کی بحث اُٹھائی ہے جو بے محل ہے۔ کیونکہ قرآن مجید میں کوئی ایسا حکم نہیں جس سے بات کرنے کی اجازت پائی جاتی ہو، تا یہ کہا جاسکے کہ قُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ کا حکم پہلے حکم کو منسوخ کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں ایک اور امر بھی یہاں قابل غور ہے کہ آیت قُومُوا لِلَّهِ قَانِتِين مدنی ہے۔ اس سے یہ ماننا پڑے گا کہ گویا ہو۔ سے یہ ماننا پڑے گا کہ گویا بولنے کی ممانعت کا حکم مدینہ میں دیا گیا نہ کہ مکہ مکرمہ میں جو خلاف واقعہ ہے۔