صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 577
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۷۷ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة سر کھجلا۔ موجب قرار دی ہے۔ اس غلو کے پیش نظر مذکورہ بالا عنوان قائم کر کے اس باب میں ایسی مثالیں بیان کی گئی ہیں جن سے نماز باطل نہیں ہوتی ۔ مثلاً سر درد ہے یا ٹوپی گر گئی ہے یا خارش ہے تو جائز ہے کہ ٹوپی اُتارے یا اس کو اُٹھا کر پہن لے یا جلائے ۔ (إِلَّا أَنْ يَحُكَ جِلْدًا أَوْ يُصْلِحَ ثَوْبًا) اس استثناء کا تعلق دراصل حضرت علی کے ساتھ ہے۔ مسلم بن ابراہیم نے ابن جریر بی کی روایت حضرت علیؓ سے متعلق نقل کی ہے کہ ان کی عادت تھی کہ نماز کے لئے جب کھڑے ہوتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں کلائی پر رکھتے اور اس ہیئت میں رہتے یہاں تک کہ رکوع کرتے ۔ سوائے اس کے کہ بدن کھجلانا ہو یا کپڑا لینا ہو۔ یعنی مثلاً چادر کندھے سے گر گئی ہو تو اس کو پہننے کے لئے حرکت کرتے ورنہ سکون کے ساتھ اس ہیئت میں کھڑے رہتے ۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۹۴) صلى الله مسئلہ معنونہ سے متعلق امام بخاری نے روایت نمبر ۱۱۹۸ سے استدلال کیا ہے۔ نبی ﷺ نے حضرت ابن عباس کو بائیں جانب سے پھیر کر دائیں جانب کھڑا کیا اور وہ ابھی بچے تھے آپ نے ان کو گھماتے وقت ان کا کان از راه شفقت اور آگاہ کرنے کے لئے مسلا - مقتدی کا مقام مقتدی کا مقام امام کے دائیں ۔ ں جانب ہے۔ صحتِ نماز کی خاطر حضرت ابن عباس کو اپنے پیچھے سے سے گھما گھما کے کر دائیں طرف لائے۔ جب کان مسلنے سے سے حضرت حضرت ابن ابن عباس عبا نہیں سمجھے کہ آنحضرت میے عليه کیا چاہتے۔ اہتے ہیں تو آپ نے گھما کر دائیں طرف کر دیا۔ باب کا مقصد الفاظ إِذَا كَانَ مِنْ أَمْرِ الصَّلوة سے واضح ہے۔ یعنی ایسی حرکت جس کا تعلق نماز سے ہے بحالت نماز جائز ہے۔ اس تعلق میں کتاب الصلاۃ باب نمبر ۱۰۰ ۱۰۸،۱۰۶،۱۰۴ا بھی دیکھئے۔ بَاب ٢ : مَا يُنْهَى مِنَ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ نماز میں بات کرنا ممنوع ہے صلى ۱۱۹۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ ۱۱۹۹: محمد بن عبداللہ بن نمیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشِ عَنْ (محمد) بن فضیل نے ہم سے بیان کیا۔ اعمش نے ہمیں إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ بتایا۔ انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ کیا کرتے تھے۔ بحالیکہ آپ نماز میں ہوتے اور آپ ہمیں جواب دیا کرتے ۔ جب ہم نجاشی کے پاس سے النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا واپس آئے ۔ ہم نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے ہمیں وَقَالَ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغلًا۔ جواب نہ دیا اور آپ نے (نماز کے بعد ) فرمایا : نماز میں اطرافه: ١٢١٦، ٣٨٧٥۔ بھی ایک بڑی مصروفیت ہوتی ہے۔