صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 577 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 577

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة موجب قرار دی ہے۔اس غلو کے پیش نظر مذکورہ بالا عنوان قائم کر کے اس باب میں ایسی مثالیں بیان کی گئی ہیں جن سے نماز باطل نہیں ہوتی۔مثلاً سر درد ہے یا ٹوپی گرگئی ہے یا خارش ہے تو جائز ہے کہ ٹوپی اتارے یا اس کو اُٹھا کر پہن لے یا سر کھجلائے۔(إِلَّا أَن يُحكَ جِلدًا اَوْ يُصْلِحَ ثَوبا) اس استثناء کا تعلق دراصل حضرت علی کے ساتھ ہے۔مسلم بن ابراہیم نے ابن جریر بی کی روایت حضرت علی سے متعلق نقل کی ہے کہ ان کی عادت تھی کہ نماز کے لئے جب کھڑے ہوتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں کلائی پر رکھتے اور اس ہیئت میں رہتے یہاں تک کہ رکوع کرتے۔سوائے اس کے کہ بدن کھجلانا ہو یا کپڑا لیتا ہو۔یعنی مثلاً چادر کندھے سے گر گئی ہو تو اس کو پہننے کے لئے حرکت کرتے ورنہ سکون کے ساتھ اس ہلیت میں کھڑے رہتے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفر ۹۴) مسئلہ معنونہ سے متعلق امام بخاری نے روایت نمبر ۱۱۹۸ سے استدلال کیا ہے۔نبی ﷺ نے حضرت ابن عباس کو بائیں جانب سے پھیر کر دائیں جانب کھڑا کیا اور وہ ابھی بچے تھے آپ نے ان کو گھماتے وقت ان کا کان از راہ شفقت اور آگاہ کرنے کے لئے مسلا مقتدی کا مقام امام کے دائیں جانب ہے۔صحت نماز کی خاطر حضرت ابن عباس کو اپنے پیچھے سے گھما کر دائیں طرف لائے۔جب کان مسلنے سے حضرت ابن عباس نہیں سمجھے کہ آنحضرت ﷺ کیا چاہتے ہیں تو آپ نے گھما کر دائیں طرف کر دیا۔باب کا مقصد الفاظ إِذَا كَانَ مِنْ أَمْرِ الصَّلوۃ سے واضح ہے۔یعنی ایسی حرکت جس کا تعلق نماز سے ہے بحالت نماز جائز ہے۔اس تعلق میں کتاب الصلوۃ باب نمبر ۰۸،۱۰۶،۱۰۴۱۰۰ ابھی دیکھئے۔بَاب ٢ : مَا يُنْهَى مِنَ الْكَلامِ فِي الصَّلَاةِ نماز میں بات کرنا ممنوع ہے ۱۱۹۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرِ قَالَ ۱۱۹۹: محمد بن عبداللہ ) بن نمیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْل حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ (محمد) بن فضیل نے ہم سے بیان کیا۔اعمش نے ہمیں إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ بتایا۔انہوں نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ سے، علقمہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ کیا کرتے تھے۔بحالیکہ آپ نماز میں ہوتے اور آپ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ ہمیں جواب دیا کرتے۔جب ہم نجاشی کے پاس سے النَّجَاشِيَ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا واپس آئے۔ہم نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا اور آپ نے (نماز کے بعد ) فرمایا: نماز میں وَقَالَ إِنَّ فِي الصَّلَاةِ شُغْلًا۔اطرافه: ١٢١٦، ٣٨٧٥۔بھی ایک بڑی مصروفیت ہوتی ہے۔