صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 576
خاری جلد ۲ ۵۷۶ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ﷺ سور ہے۔یہاں تک کہ آدھی رات گذرگئی یا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيْل أَوْ بَعْدَهُ اس سے کچھ پہلے کا وقت ہوگا یا بعد کا کہ رسول اللہ ہی ہے بِقَلِيْل ثُمَّ اسْتَيْقَظَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ جاگے اور اُٹھ بیٹھے اور اپنے منہ پر اپنے ہاتھ پھیر کر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ فَمَسَحَ النَّوْمَ عَنْ نیند دور کرنے لگے۔پھر آپ نے سورۃ آل عمران کی وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ آخری دس آیتیں پڑھیں۔پھر اُٹھ کر ایک مشکیزہ لیا خَوَاتِيْمَ سُوْرَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى جولٹک رہا تھا۔اور اس سے وضو کیا اور اچھی طرح وضو شَنِ مُعَلَّقَة فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ کیا۔پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔حضرت عبداللہ وضوءهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے۔میں اُٹھا اور میں نے فَقُمتُ بھی ویسے ہی کیا جیسے آپ نے کیا تھا۔پھر میں جا کر عباس رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ ثُمَّ ذَهَبْتُ آپ کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللَّهِ نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى اپنے ہاتھ سے مسلنے لگے۔آپ نے دور کعتیں پڑھیں رَأْسِي وَأَخَذَ بِأَذْنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا بِيَدِهِ پر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔پھر آپ نے دو رکعتیں پڑھیں۔پھر ایک وتر پڑھا۔اس کے بعد آپ رَكْعَتَيْن ثُمَّ أَوْثَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى لیٹ گئے۔یہاں تک کہ مؤذن آپ کے پاس آیا اور جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ آپ آٹھے او دو ہلکی رکھتیں پڑھیں۔پھر باہر گئے اور خَفِيْفَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ۔فجر کی نماز پڑھائی۔اطرافه ۱۱۷، ۱۳۸ ، ۱۸۳ ، ٦۹۷ ، ٦۹۸ ، ٦٩٩، ۷۲۸،۷۲٦، ۸۵۹، ۹۹۲، ۱۱۳۸، ٤٥٦٩، ٤٥٧٠، ٤٥٧١ ۰۹۱۹٤٥٧٢، ۶۲۱۵، ٦٣١٦ ٥٤٥٢۔تشریح: اسْتِعَانَةُ الْيَدِ فِى الصَّلَاةِ إِذَا كَانَ مِنْ اَمْرِ الصَّلَاةِ : بعض فقہاء نے نماز پوری توجہ کے ساتھ ادا کرنے پر زور دیا ہے۔یہاں تک کہ معمولی سی حرکت اور بے تو جہی بھی نماز باطل کرنے کا