صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 573
صحيح البخاری جلد ۲ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي۔ اطرافه: ۱۸۸۸، 6588، 7335۔ : ۵۷۳ ۲۰ - كتاب فضل الصلاة درمیان جنت کے گلستانوں میں سے ایک گلستان ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے۔ تشريح : فَضْلُ مَا بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ : حدیث کے الفاظ مَا بَيْنَ بَيْنِي وَمِنْبَرِی ہیں اور عنوانِ باب میں مَا بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمَنْبَر کے الفاظ اختیار کر کے امام بخاری غالبا اس امر کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ فضیلت اب بھی قائم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مکان کے ایک حجرہ میں ہی دفن کیے گئے تھے۔ جس سے اس مکان کی فضیلت بڑھ گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں صحابہ پر ذکر الہی کی جو کیفیات طاری ہوتی تھیں اُن کا تو تصور بھی ہمارے لئے ممکن نہیں ۔ مگر انسان اس مقام پر کھڑا ہو کر ان فیوض سے کچھ نہ کچھ حصہ پاسکتا ہے۔ ذوق و شوق کی انہی معنوی کیفیات کو مد نظر رکھتے ہوئے بطور تشبیہ اسی مقام کو رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ کہا گیا ہے۔ نبی ﷺ کا حوض کیا ہے؟ وہ روحانی فیضان ہے جو تا قیامت جاری رہے رہے گا اور آپ کا منبر بھی اس حوض پر تا قیامت برقرار رہے گا۔ یعنی ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز دنیا کو پہنچانے والے ہوں گے۔ گویا آپ کا یہ منبر آپ کے روحانی فیوض کے حوض سے تشنگان روحانیت کی پیاس بجھانے کے لئے ہمیشہ کام دیتا رہے گا۔ ا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے روحانی فیض کے دوام کا نظارہ خواب میں یا کشف میں دکھایا گیا تھا۔ بلکہ قرآن مجید میں آپ کی جاودانی فیض رسانی کے بارہ میں متعدد جگہ تصریحات موجود ہیں۔ جیسے سورہ کوثر میں اور سورۃ انبیاء میں کفار کو روزمرہ کے مشاہدہ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جب تک آسمان کا پیوند زمین کے ساتھ قائم رہتا ہے اس کی زندگی بھی قائم رہتی ہے اور اگر اس کا پیوند زمین سے ٹوٹ جائے تو وہ مر جاتی ہے۔ کفار دیکھ چکے ہیں کہ پانی سے ہر شئی زندہ ہے اور زمینی زندگی کے بقا و دوام کے لئے خالق نے ایک مادی نظام بنایا ہے۔ اسی قسم کا ایک نظام انسانی روح کی بقاء کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود بطور آفتاب ہے اور مجددین بطور ماہتاب ہیں۔ دونوں نظام جسمانی اور روحانی انسانی زندگی کے بقا کے لئے ضروری ہیں۔ روزمرہ کے مشاہدہ کی طرف توجہ منعطف کرانے کے بعد فرماتا ہے : وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ اَفَاِنْ مِّنَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ ۔ (الانبياء:۳۵) تجھ سے پہلے ہم نے کسی بشر کے لئے دائگی زندگی مقدر نہیں کی ۔ یعنی تقدیر الہی نے صرف تیرے لئے ہی فیصلہ کیا ہے کہ تو ہمیشہ زندہ رہے۔ پس اگر تو مر جائے تو کیا وہ زندہ رہ سکتے ہیں؟ نہیں۔ سورہ انبیاء کا ( ذِكْرِ مُحدَث) یہی نیا مضمون ہے کہ انبیاء کا سلسلہ فیض رسانی ختم ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آب حیات نظام روحانی جاودانی ہے۔ اس عظیم الشان دعوے کو سن کر کفار نے مذاق اُڑایا جس کا ذکر سورۃ انبیاء آ کا ذکر سورۃ انبیاء آیت ۳۵ تا ۴۰ میں مع جواب ا میں مع جواب مذکور ہے اور اس سیاق کلام میں یا جوج ماجوج کے عروج اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جاودانی فیوض کی برکت سے ان کا فتنہ وشر مٹانے کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کے پورا ہونے پر آپ کے منبر اور حوض کی شان اصلی صورت و شکل میں از خود نمایاں ہو جائے گی اور اب ہم اس موعودہ زمانہ کے دروازے پر ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر کبیر مؤلفہ حضرت مصلح موعود، تفسير سورة الانبياء جلد ۵ صفحه ۵۱۴ تا ۵۱۸ نيز تفسير سورة الكوثر جلد اصفحه ۲۳۳ تا ۳۸۲