صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 564
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۶۴ ١٩ - كتاب التهجد إِلَّا اللهُ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ قَالَ اقرار کیا۔جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی چاہتا ہو۔مَحْمُوْدٌ فَحَدَّثْتُهَا قَوْمًا فِيْهِمْ أَبُو أَيُّوبَ حضرت محمود ( بن ربیع ) کہتے تھے۔میں نے یہ بات کچھ اور صَاحِبُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ لوگوں سے بیان کی ، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ فِي غَزْوَتِهِ الَّتِي تُوُفِّيَ فِيْهَا کے ساتھی حضرت ابو ایوب (انصاری) بھی تھے، جو اس وَيَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَلَيْهِمْ بِأَرْضِ الرُّوْم جنگ میں تھے جس میں وہ ملک روم میں فوت ہوئے اور فَأَنْكَرَهَا عَلَيَّ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ وَاللهِ مَا يزيد بن معاویہ ان کے سردار تھے تو حضرت ابوایوب نے أَظُنُّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میری بات کا انکار کیا اور کہا بخدا میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ قَالَ مَا قُلْتَ قَطُّ فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيَّ صلى اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسا کہا ہو جو تم نے بیان کیا ہے۔فَجَعَلْتُ لِلَّهِ عَلَيَّ إِنْ سَلَّمَنِي حَتَّى یہ بات مجھ پر بہت گراں گزری تو میں نے اللہ تعالیٰ کے أَقْفُلَ مِنْ غَزْوَتِي أَنْ أَسْأَلَ عَنْهَا عِتْبَانَ لئے اپنے او پر منت مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنْ وَجَدْتُهُ حَيًّا رکھا اور اس جنگ سے واپس لوٹا تو یہ بات حضرت عتبان فِي مَسْجِدِ قَوْمِهِ فَقَفَلْتُ فَأَهْلَلْتُ بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھوں گا۔بشرطیکہ میں نے ان بِحَجَةٍ أَوْ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ سِرْتُ حَتَّى کی قوم کی مسجد میں ان کو زندہ پایا۔چنانچہ میں لوٹا اور حج یا عمرہ کا احرام باندھا۔پھر میں چل پڑا۔یہاں تک کہ مدینہ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ بَنِي سَالِمٍ فَإِذَا آیا اور بنی سالم کے محلہ میں گیا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ عِتْبَانُ شَيْخٌ أَعْمَى يُصَلِّي لِقَوْمِهِ فَلَمَّا حضرت عتبان بوڑھے ہو گئے ہیں اور آپ کی بینائی جاتی سَلَّمَ مِنْ الصَّلَاةِ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَأَخْبَرْتُهُ مَنْ أَنَا ثُمَّ سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ الْحَدِيثِ فَحَدَّثَنِيْهِ كَمَا حَدَّثَنِيْهِ أَوَّلَ رہی ہے۔آپ اپنی قوم کو نماز پڑھا رہے تھے۔جب نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے انہیں سلام کیا اور انہیں بتایا کہ میں کون ہوں۔پھر میں نے ان سے وہ بات پوچھی تو انہوں نے اس کو اسی طرح بیان کیا، جس طرح کہ پہلی دفعہ مجھ سے بیان کیا تھا۔اطرافه: ٤٢٤، ٤٢٥ ٦٦٧، ٦۸٦ ، ۸۳۸، ۸۰، ٤۰۱۰، ٥٤۰۱ ٦٤٢٣، ٦٩٣٨۔