صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 42
صحیح البخاری جلد ۲ ۴۳ ١٠ - كتاب الأذان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنَاجِي رَجُلًا فِي صلى اللہ علیہ وسلم مسجد کی ایک طرف کسی آدمی سے جَانِبِ الْمَسْجِدِ فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ علیحدگی میں کچھ فرمارہے تھے اور آپ اس وقت تک حَتَّى نَامَ الْقَوْمِ۔ اطرافه: ٦٤٣، ٦٢٩٢۔ نماز کے لئے کھڑے نہیں ہوئے کہ لوگ سونے لگے ۔ باب ۲۸ : الْكَلَامُ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ اس وقت باتیں کرنا جب نماز کے لئے تکبیر کہی جائے ٦٤٣ : حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ :۶۴۳: عیاش بن ولید نے ہم سے بیان کیا، کہا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عبدالاعلیٰ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: حمید نے ہم قَالَ سَأَلْتُ ثَابِتَا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ سے بیان کیا کہ میں نے ثابت بنانی سے اس آدمی کی يَتَكَلَّمُ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلَاةُ فَحَدَّثَنِي بابت پوچھا، جو تکبیر اقامت کے بعد بات کرے تو عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أُقِيمَتِ انہوں نے مجھے بتایا: حضرت انس بن مالک سے الصَّلَاةُ فَعَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مروی ہے کہ نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور ایک آدمی وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أَقِيمَتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے آپ کو روک لیا؟ جبکہ نماز کے لئے تکبیر اقامت کہی جا ☆ الصلاة۔ چکی تھی۔ اطرافه: ٦٤٢، ٦٢٩٢ حدیث کے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ (دیکھئے فتح الباری ، زیرہ باب ہذا، مطبوعہ بولاق حاشیه صفحه ۱۰۳-۱۰۴)