صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 41
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۱ ١٠ - كتاب الأذان الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ سورج غروب ہونے کے بعد نماز پڑھی۔ یعنی عصر صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ۔ اطرافه: ٥٩٦، 5٩٨، 945، 411۔ کی۔ پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ تشریح : قَوْلُ الرَّجُلِ مَا صَلَّيْنَا : جیسا کہ پہلے ذکرکیا گیاہے۔ لگ یا توافراط کی طرف نکل جاتے ہیں یا تفریط کی طرف اور حد اعتدال پر قائم رہنا ان کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ مسائل فقہیہ میں بھی اسی قسم کے افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے۔ بجائے اس کے کہ عملی باتوں پر زور دیا جاتا لفظی بحثوں پر بہت زور دیا گیا۔ اس افراط کی ایک مثال یہ ہے کہ بعض لوگ اس کو سوء ادب سمجھتے ہیں کہ کوئی شخص یہ کہے کہ مَا صَلَّيْنَا ہم نے نماز نہیں پڑھی۔ یعنی اپنی طرف نماز نہ پڑھنے کا فعل منسوب کرنا گویا ایک مکروہ بات ہے۔ ایک طرف تو یہ ان کا افراط اور دوسری طرف آداب امام سے متعلق سہل انگاری۔ بعض کا تو یہ رویہ ہے کہ وہ اس کی تاخیر پر شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ بحالیکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مُنتَظِرُ الصَّلوةِ فِي صَلوة (مسند احمد بن حنبل، مسند الأنصار، حديث عبدالله بن سلام، روایت نمبر ۲۲۶۶۳، جزء ۵ صفحه ۴۵۰) یعنی نماز کا انتظار کرنے والا نماز ہی میں ہوتا ہے۔ پس اگر امام کو کسی وجہ سے دیر ہو جائے تو مقام ادب یہی چاہتا ہے کہ اطمینان سے اس کا انتظار کیا جائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی ضرورتیں پیش آئیں اور آپ نے تکبیرا قامت کہے جانے کے بعد بھی گفتگو فرمائی۔ یہاں تک کہ آپ مقتدیوں کو صف بستہ چھوڑ کر اندر غسل کے لئے تشریف لے گئے ہیں اور ان سے فرمایا کہ وہ جیسے کھڑے ہیں کھڑے رہیں اور صحابہ کرام اطمینان سے کھڑے انتظار کرتے رہے۔ ( روایت نمبر ۶۳۹ - ۶۴۰) اور یہ انتظار بھی ان کی ایک قسم کی عبادت تھی ۔ امام موصوف رحمۃ اللہ علیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک نمونہ اور صحابہ کرام کے سوانح حیات سے ایک انتہائی صورت پیش کر کے اسی نکتہ جلیلہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ منصب امامت مقتدیوں سے نہایت درجہ ادب و احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ باب ۲۷ : الْإِمَامُ تَعْرِضُ لَهُ الْحَاجَةُ بَعْدَ الْإِقَامَةِ اقامت کے بعد امام کو حاجت پیش آ جائے ٦٤٢ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۶۴۲ : ابو معمر عبداللہ بن عمرو نے ہم سے بیان کیا، عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ کہا: عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالعزیز حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ بن صُبَیب نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس سے مروی أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَالنَّبِيُّ ہے۔ وہ کہتے تھے: نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور نبی