صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 40 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 40

صحيح البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان کے لئے از بس ضروری ہے۔باب ۱۹ سے باب ۲۵ تک اسی اہم ادب کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔باب ۲۳ میں ضمنا ایک اور امر کا بھی ذکر کیا ہے جو باب ۱۷ میں بھی گزر چکا ہے۔مگر اس کا تعلق بالواسطہ انہی باتوں کے مضمون سے ہے۔جیسا کہ ابھی اس تعلق کی وضاحت کی جائے گی۔وَهُوَ جُنبٌ: روایت نمبر ۶۳۹ میں یہ الفاظ نہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ قیاس کیا گیا ہے۔نبی ﷺ نے ان سے اس کا ذکر نہیں کیا۔بلکہ عنوان باب ۲۴ میں لِعِلہِ کہ کر توجہ دلائی ہے کہ مسجد سے نکلنے کا سبب غیر معین ہے۔بلکہ باب ۲۵ کے عنوان میں الفاظ لِعِلَّةٍ، لِحَاجَةٍ، وَهُوَ جُنُب نظر انداز کئے گئے ہیں۔امام موصوف کا یہ تصرف بلا وجہ نہیں۔مذکورہ بالا دونوں ابواب کے بعد جو باب ( نمبر ۲۷) قائم کیا ہے۔اس میں آل حَاجَةُ کا لفظ جو معرفہ ہے اختیار کر کے بتایا ہے کہ جہاں وجہ معلوم ہو وہاں تو وہ وجہ بیان کی جاسکتی ہے۔مگر جہاں وجہ کا علم نہ دیا گیا ہو وہاں آراء کا قیاس درست نہیں۔چاروں ابواب ایک ترتیب میں ہیں۔باب ۲۴، ۲۶ ضمنی ہیں۔باب ٢٦ : قَوْلُ الرَّجُلِ مَا صَلَّيْنَا آدمی کا یہ کہنا کہ ہم نے نماز نہیں پڑھی ٦٤١: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا :۶۴۱: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: شیبان نے شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہمیں بتایا۔کسی سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں سَلَمَةَ يَقُولُ أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ نے ابو سلمہ سے سنا۔وہ کہتے تھے: حضرت جابر بن أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ عبداللہ نے ہمیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ حضرت عمر بن خطاب خندق کے دن آئے اور کہا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ يا رسول اللہ! بخدا مجھے تو نماز بھی نہ ملی۔یہاں تک کہ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَعْرُبُ وَذَلِكَ سورج غروب ہونے لگا اور یہ اس وقت کے بعد بَعْدَ مَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى کا وقت تھا جب روزہ دار نے روزہ افطار کیا۔نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا فَنَزَلَ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخدا! میں نے بھی نہیں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى پڑھی۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بطحان کی طرف اتر گئے يُطْحَانَ وَأَنَا مَعَهُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى يَعْنِي اور میں آپ کے ساتھ تھا۔آپ نے وضو کیا۔پھر