صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 545
البخاري- جلد ۲ ۵۴۵ ١٩ - كتاب التهجد الزُّبَيْر عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عروہ بن زبیر سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا صَلَّى رَكْعَتَي الْفَجْرِ اضْطَجَعَ جب فجر کی دورکعتیں (سنت) پڑھ لیتے تو اپنی داہنی عَلَى شِقِهِ الْأَيْمَنِ۔کروٹ پر لیٹ جاتے۔اطرافه: ٦٢٦، ۹۹٤، ۱۱۲۳، ۱۱۳۹، ۱۱٤۰، ۱۱۷۰، ٦۳۱۰۔تشریح : الضَّجَعَةُ عَلَى الشَّقِ الْأَيْمَنِ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ : امام موصوف کو یہ باپ قائم کرنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے اس امر سے انکار کیا ہے اور ابراہیم نخعی نے اس کو شیطان کا لیٹنا قرار دیا ہے۔جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کو یہ روایت نہیں پہنچی۔حضرت ابن عمرؓ نے بھی اس کو بدعت قرار دیا ہے۔بعض نے لیٹنا ضروری سمجھا ہے۔تا صلوۃ اللیل اور صلوٰۃ اصبح کے درمیان اس وقفہ استراحت سے ایک حد فاصل قائم ہو جائے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۵۷۱۵۶) مگر یہ دونوں فریق ہے وجہ آپس میں اختلاف کرتے ہیں۔امام موصوف نے باب ۲۳ د باب ۲۴ قائم کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی آرام کرنے کے لئے لیٹ بھی جاتے اور کبھی نہ لیٹتے۔بَاب ٤ ٢ : مَنْ تَحَدَّثَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ وَلَمْ يَضْطَجِعْ جو فجر کی دورکعتوں کے بعد باتیں کرے اور نہ لیٹے ١١٦١ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ :۱۱۶۱: بشر بن حکم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ کہا: سالم ابونضر نے ابوسلمہ سے روایت کرتے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى الله ہوئے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى سُنَّةِ الْفَجْرِ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی سنتیں فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلَّا پڑھ چکتے تو اگر میں جاگتی ہوتی تو آپ مجھ سے باتیں اصْطَجَعَ حَتَّى يُؤَذَنَ بِالصَّلَاةِ۔کرتے ، ورنہ لیٹ جاتے۔یہاں تک کہ آپ کو نماز کے متعلق اطلاع دی جاتی۔أطرافه: ۱۱۱۹، ۱۱۶۸۔