صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 546
صحیح البخاری جلد ۲ ۵۴۶ باب ٢٥ : مَا جَاءَ فِي التَّطَوُّع مَثْنَى مَثْنَى دو دو رکعتیں نفل پڑھنے کے متعلق جو ( روایتیں وارد ہوئی ہیں ١٩ - كتاب التهجد قَالَ مُحَمَّدٌ وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ عَمَّارٍ محمد بن اسماعیل امام بخاریؒ ) نے کہا: ' حضرت وَأَبِي ذَرٍ وَأَنَسٍ وَجَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عمال حضرت ابوذر، اور حضرت انس ، ( صحابیوں ) اور وَعِكْرِمَةَ وَالزُّهْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ جابر بن زید ، عکرمہ اور زہری ( تابعیوں ) سے یہی وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ مَا منقول ہے اور يحي بن سعید انصاری نے کہا: میں نے أَدْرَكْتُ فُقَهَاءَ أَرْضِنَا إِلَّا يُسَلِمُوْنَ فِي اپنے ملک (مدینہ) کے فقیہوں کو دن کے (نوافل میں ) كُلَّ اثْنَتَيْنِ مِنَ النَّهَارِ۔ہر دور کعت کے بعد ہی سلام پھیرتے پایا۔١١٦٢: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۱۶۲: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبد الرحمن بن ابی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي عَنْ الموالی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن منکدر سے، محمد نے مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِر عَنْ جَابِرِ بْن عَبْدِ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما (انصاری) سے روایت اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُوْلُ کی۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام ہے اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا کاموں کے متعلق استخارہ کرنے کی تعلیم دیا کرتے تھے، اسی الْاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُوْرِ { كُلِّهَا } كَمَا طرح جس طرح قرآن کریم کی سورۃ کی تعلیم دیتے۔فرماتے: جب تم میں سے ایک شخص کوئی کام کرنے لگے تو نفل يُعَلِّمُنَا السُّوْرَةَ مِنَ الْقُرْآنِ يَقُوْلُ إِذَا کے طور پر دور کعتیں پڑھ لے۔پھر وہ (اس طرح) دعا کرے: همَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ اے میرے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے طفیل بہتری چاہتا مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ ثُمَّ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ہوں اور تیری قدرت کی بدولت طاقت چاہتا ہوں اور تیرے أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بہت ہی بڑے فضلوں کا تجھ سے سوال کرتا ہوں۔تجھ کو قدرت بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ ہے مجھے قدرت نہیں اور تجھ کو علم ہے مجھے علم نہیں اور تو پوشیدہ 66 الفاظ " قَالَ مُحَمد فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ثالث حاشیہ صفحہ ۶۲) لفظ كلها، فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ثالث حاشیہ صفحہ ۶۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔