صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 39 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 39

البخاری جلد ۲ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ٢٥ : إِذَا قَالَ الْإِمَامُ مَكَانَكُمْ حَتَّى {أَرْجِعَ انْتَظِرُوْهُ جب امام کہے: اپنی جگہ پر رہو یہاں تک کہ ہم لوٹ آئیں تو وہ اس کا انتظار کریں ٦٤٠: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ حَدَّثَنَا ۶۴۰ الحق نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد بن یوسف - مُحَمَّدُ بْنُ يُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا نے ہم سے بیان کیا، کہا : اوزاعی نے ہمیں بتایا۔الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِي عَنْ أَبِي سَلَمَةَ انہوں نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ بن ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عبدالرحمن سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَسَوَّى النَّاسُ روایت کی۔انہوں نے کہا: نماز کے لئے تکبیر کہی گئی صُفُوْفَهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله اور لوگوں نے صفیں درست کیں اور رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَقَدَّمَ وَهُوَ جُنُبْ ثُمَّ علیہ وسلم آئے اور آگے بڑھے اور آپ جنبی تھے۔قَالَ عَلَى مَكَانِكُمْ فَرَجَعَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ پھر آپ نے فرمایا: اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو اور آپ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً فَصَلَّى بِهِمْ۔لوٹ گئے اور نہائے۔پھر باہر آئے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ نے ان کو نماز پڑھائی۔اطرافه ٢٧٥، ٦٣٩۔تشریح: إِذَا قَالَ الْإِمَامُ مَكَانَكُمْ حَتَّى اَرْجِعَ انْتَظِرُوهُ: اسلام نےامام کو مطلع کا درجہ دیا ہے۔اس لئے مقتدیوں کا حق نہیں کہ وہ امام سے متعلق رائے زنی کریں۔خواہ وہ دیر سے آئے یا اقامت کے بعد کسی کام میں مشغول ہو جائے اور ان کو کھڑا ہونے کے لیے حکم دے۔ان کا فرض ہے کہ وہ اطمینان سے اس کا انتظار کریں۔وہ اس انتظار میں بھی حالت نماز میں ہی ہوں گے۔یہ ایک نہایت ہی اہم اجتماعی نکتہ ہے۔جس کو اگر مقتدی نظر انداز کریں گے تو پھر انہیں یقین کر لینا چاہیے کہ ان کے اجتماع کی پراگندگی کا آغاز ہو گیا ہے اور انہوں نے اس راستے پر قدم رکھ دیا ہے جو ان کو اجتماعی برکات سے محروم کرنے والا ہے۔ہماری نماز ایک اجتماعی حیثیت رکھتی ہے۔جس کی پہلی کڑی امام ہے۔اس کے ذریعے سے افراد اجتماع کی صورت و شکل اختیار کرتے ہیں۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے ابواب کی ترتیب میں کمال معرفت کا اظہار کیا ہے۔تکبیرا قامت پر افراد کا تعلق امام سے شروع ہوتا ہے۔اس وقت ان کی فردیت امام کی شخصیت میں منتقل ہو جاتی ہے۔اس لئے انہوں نے یہاں اس ادب کا ذکر کیا ہے جو امام کی شخصیت کو محفوظ رکھنے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ ارجع کی بجائے ترجع ہے۔(فتح الباری جزء ثانی حاشیہ صفحہ ۱۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔