صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 543 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 543

صحيح البخاری جلد ۲ ۵۴۳ ١٩ - كتاب التهجد فَلْيَتَحَرَّهَا مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ۔ہو تو وہ آخری عشرے میں ہی اسے ڈھونڈے۔اطرافه: ۶۹۹۱،۲۰۱۵ تشریح: فَضْلُ مَنْ تَعَارٌ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى : اس باب کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص رات کو بے خوابی سے بے قرار ہو تو اس کے لئے یہی اچھا ہے کہ وہ ذکر الہی میں مشغول ہو جائے اور اگر اٹھ کر نماز پڑھے تو یہ سب سے بہتر بات ہے اور اس کی پریشانی دور کرنے کا موجب ہوگا۔اگر کوئی کسی معذوری کی وجہ سے اُٹھ نہیں سکتا تو اس کا ذکر الہی کرنا ہی تہجد کا قائم مقام ہوگا۔روایت نمبر ۱۱۵۵ میں حضرت عبداللہ بن رواحہ صحابی کے اشعار کا ذکر ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ہیں۔حضرت ابو ہریرہ کا یہ کہنا درست ہے کہ شاعر نے بے جا تعریف نہیں کی بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حالت بیان کی ہے۔يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِه۔آپ اللہ تعالیٰ کی محبت میں ایک عاشق کی طرح تھے، جو اپنے معشوق کے لئے بے قرار رہتا ہے اور بستر پر آرام کی کروٹ نہیں لیتا۔اللہ تعالیٰ کی یاد میں آپ کی یہ حالت شب بیداری تھی۔ایک مفتری یا طالب عیش سے یہ ناممکن ہے کہ ساری عمر تصنع اور تکلف سے اس کا یہ رویہ رہے۔قرآن کریم اگر نعوذ باللہ آپ کا افتراء ہوتا تو اس کی تلاوت میں آپ کو اس قدر حظ نہ آتا کہ پاؤں سوج جائیں اور کھڑے اسے ذوق وشوق سے پڑھتے چلے جائیں۔( باب نمبر ۶، روایت نمبر ۱۱۳۰) اس تعلق میں روایت نمبر ۱۱۳۵،۱۱۱۸ بھی دیکھئے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عاشقانہ حالت حیرت انگیز ہے۔ان اشعار میں آپ کی مدح کرتے ہوئے مشرکوں کی حالت کا نقشہ بھی کھینچا گیا ہے کہ اُن کی نیندیں بھاری ہوتی ہیں۔رات کو عبادت کے لئے نہیں اُٹھ سکتے۔مگر وہ جن کو اللہ تعالیٰ سے سچی محبت ہو، ان کے لئے اٹھنا آسان ہے۔حضرت ابن عمر کی روایات ( نمبر ۱۱۵۶، ۱۱۵۷، ۱۱۵۸) یہاں یہ ذہن نشین کروانے کے لئے لائی گئی ہیں کہ جہنم سے نجات کی راہ دل میں محبت الہی پیدا کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں تمام دشواریاں آسان کر دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دوری ہی سب سے بڑا جہنم ہے اور لیلۃ القدروہی ہے جس میں یہ دوری ہٹ جائے۔اس مضمون کے تعلق میں دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی۔جواب سوال پنجم - روحانی خزائن جلده اصفحہ ۳۷۱۔باب ۲۲ : الْمُدَاوَمَةُ عَلَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فجر کی دو رکعتیں ہمیشہ پڑھنا ۱۱٥٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ :۱۱۵۹ عبدالله بن یزید نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ ) کہا :) سعید بن ابی ایوب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ کہا جعفر بن ربیعہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے عراک