صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 526
صحیح البخاری جلد ۲ ۵۲۶ ١٩ - كتاب التهجد تشریح: كَيْفَ كَانَ صَلَاةُ النَّبِي ، وَكَمْ كَانَ النَّبِيُّ لا يُصَلَّى مِنَ اللَّيْلِ : عنوانِ باب میں دومسئلے بیان کئے گئے ہیں۔ایک یہ کہ نماز تہجد کس طرح پڑھی جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دور دور کعتیں پڑھی جائیں۔دوسرا یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کل کتنی رکعتیں پڑھا کرتے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سات سے لے کر گیارہ رکعتوں تک پڑھتے تھے۔جہاں تیرہ رکعتوں کا ذکر آتا ہے وہاں فجر کی دو سنتیں نماز تہجد میں شمار کی گئی ہیں۔مسروق اور قاسم نے جو روایتیں حضرت عائشہ سے نقل کی ہیں۔وہ آپس میں متفق ہیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۱۱۴۷) مگر عروہ نے جو روایت ان سے نقل کی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فجر کی سنتوں کے علاوہ تیرہ رکعتیں تہجد پڑھتے تھے۔(روایت نمبر ۱۱۷۰) بعض شارحین کا خیال ہے کہ نبی سے تہجد کی نماز دو ہلکی رکعتوں سے شروع کرتے مسلم کی روایت میں اس کی صراحت ہے کہ صبح کی دور کعتیں نفل میں شامل کرنے سے تیرہ رکعتیں ہوتی ہیں۔(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة الليل وعدد ركعات) اس طرح ان روایتوں کے ظاہری اختلاف کا حل ہو جاتا ہے۔تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۲۷، ۲۸۔بَاب ۱۱ : قِيَامُ النَّبِيِّ ﷺ بِاللَّيْلِ وَنَوْمُهُ نبی علیہ کا رات کو نماز پڑھنا اور آپ کا سونا عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيْلًا إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ وَمَا نُسِخَ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ وَقَوْلُهُ تَعَالَى: اور رات کی عبادت سے جو کچھ منسوخ کیا يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ O قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيْلًا گیا ہے اور اللہ تعالی کا یہ فرمانا: {اے اچھی طرح نِّصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيْلًا أَوْ زِدْ عَلَيْهِ چادر میں لپٹنے والے! رات کو قیام کیا کر مگر تھوڑا۔وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيْلًا إِنَّا سَنُلْقِي اس کا نصف یا اس میں سے کچھ تھوڑا سا کم کر دے۔یا اس پر ( کچھ ) زیادہ کر دے اور قرآن کو خوب نکھار کر پڑھا کر۔یقینا ہم تجھ پر ایک بھاری فرمان اتاریں گے۔رات کا اٹھنا یقینا ( نفس کو ) پاؤں تلے کچلنے کے لیے زیادہ شدید اور قول کے وَقَوْلُهُ: عَلِمَ أَنْ أَنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے۔یقینا تیرے لیے دن کو عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُ وْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ بہت لمبا کام ہوتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَّرْضَى { اور وہ جانتا ہے کہ تم ہرگز اس (طریق) کو أَشَدُّ وَطْأَ وَأَقْوَمُ قِيْلًاه إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا (المزمل: ۲-۸) ج