صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 527
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۲۷ ١٩ - كتاب التهجد وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ نبھا نہیں سکو گے۔ پس وہ تم پر عفو کے ساتھ جھک گیا ہے۔ پس يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللهِ وَآخَرُونَ قرآن میں سے جتنا میسر ہو پڑھ لیا کرو۔ وہ جانتا ہے کہ تم يُقَاتِلُوْنَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ میں سے مریض بھی ہوں گے اور دوسرے بھی جو زمین میں اللہ کا فضل چاہتے ہوئے سفر کرتے ہیں اور کچھ اور بھی جو خدا مِنْهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَوةَ کی راہ میں قتال کریں گے۔ پس اس میں سے جو بھی میسر وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا وَمَا آئے پڑھ لیا کرو اور نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور اللہ کو تُقَدِّمُوْا لِأَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ قرض حسنہ دو اور اچھی چیزوں میں سے جو بھی تم خود اپنی خاطر عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا آگے بھیجو گے تو وہ ہے جسے تم اللہ کے حضور بہتر اور اجر کے (المزمل: ۲۱) قَالَ ابْنُ عَبَّاس رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لحاظ سے عظیم تر پاؤ گے۔} حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نَشَأَ قَامَ بِالْحَبَشِيَّةِ وطَاءً قَالَ مُوَاطَأَةُ نے کہا: (اس سورہ میں نَاشِئَةَ اللَّيْلِ جو ہے ) وہ نَشَأَ سے لِلْقُرْآنِ أَشَدُّ مُوَافَقَةً لِسَمْعِهِ وَبَصَرِهِ ہے۔ اس کے معنے بشی زبان میں کھڑا ہوا ہیں اور وطاء کے معنی ” موافق ہونا (یعنی رات کو قرآن پڑھنا) پڑھنے وَقَلْبِهِ لِيُوَاطِئُوا لِيُوَافِقُوْا ۔ والے کے کان، آنکھ اور دل کے بہت ہی موافق ہوتا ہے اور سورہ براۃ میں جو لِيُوَاطِئُوا ہے اس کے معنی لِيُوَافِقُوا ہیں یعنی وہ موافقت کریں۔ ١١٤١: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۱۱۴۱: عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، کہا: محمد عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ بن جعفر نے مجھے بتایا۔ حمید سے مروی ہے کہ انہوں نے عَنْ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سناء کہتے تھے: رسول اللہ عَنْهُ يَقُوْلُ كَانَ رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ صلى اللہ علیہ وسلم کسی مہینے روزے ترک کر دیتے ۔ یہاں تک سمجھتے کہ اس مہینے میں آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى کم ہے کہ ان نَظُنَّ أَنْ لَا يَصُوْمَ مِنْهُ وَيَصُوْمُ حَتَّى (کبھی) اتنے روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے اس میں آپ روزہ نَظُنَّ أَنْ لَا يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا وَكَانَ لَا نہیں چھوڑیں گے اور آپ کی یہ حالت تھی کہ جب تم یہ خیال لا بھی نہیں کرتے ہو گے کہ آپ کو نماز پڑھتے دیکھو، مگر اس تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ وقت بھی آپ کو نماز پڑھتے ہی دیکھو گے۔ یا یہ کہ سوئے وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ ۔ ہوئے دیکھو تو آپ کو سوئے ہوئے پاؤ گے۔