صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 517 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 517

صحیح البخاری جلد ۲ ۵۱۷ ١٩ - كتاب التهجد أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ على بن حسین (امام زین العابدین) نے مجھے خبر دی عَلِي أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ که حسین بن علی نے ان سے بیان کیا کہ حضرت علیؓ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن ابی طالب نے ان کو بتایا تھا کہ رسول اللہ علی وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ ایک رات ان کے اور حضرت فاطمہ کے پاس جو نبی السَّلَامُ لَيْلَةً فَقَالَ أَلَا تُصَلِّيَانِ؟ فَقُلْتُ يَا علیه السلام کی بیٹی تھیں، آئے اور فرمایا: کیا تم دونوں رَسُوْلَ اللهِ أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ نماز نہیں پڑھو گے؟ میں نے کہا: یا رسول اللہ! ہماری ا بَعَثَنَا فَانْصَرَفَ حِيْنَ قُلْتُ ذَلِكَ جانیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔جب ہمیں اُٹھانا وَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعْتُهُ وَهُوَ چاہے ہمیں اُٹھاتا ہے۔جب میں نے یہ کہا: تو آپ مُوَلِ يَضْرِبُ فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ: لوٹ گئے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا۔پھر میں نے جبکہ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا۔آپ پیٹھ موڑ کر جا رہے تھے، سنا۔اپنی ران پر ہاتھ (الکھف: ٥٥) مارتے تھے۔آپ کہہ رہے تھے۔انسان اکثر باتوں میں جھگڑا کرتا ہے۔اطرافه: ٤٧٢٤ ٧٣٤٧ ٠٧٤٦٥ ۱۱۲۸ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ :۱۱۲۸ عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ بیان کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنْ شہاب سے ابن شہاب نے عروہ سے، عروہ نے كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ع لَيَدَعُ الْعَمَلَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ کہتی وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يُعْمَلَ بِهِ خَشْيَةَ أَنْ تھیں: رسول اللہ ﷺ کسی کام کو چھوڑ بھی دیتے تھے۔يُعْمَلَ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ وَمَا حالانکہ آپ دل سے چاہتے کہ اسے کریں، اس خوف سے کہ کہیں لوگ اس پر کار بند ہوں اور وہ ان پر فرض سَبَّحَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہو جائے۔رسول اللہ ﷺ نے کبھی چاشت کی نفلی نماز سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنّى لَأُسَبِّحُهَا۔نہیں پڑھی اور میں تو اسے پڑھتی ہوں۔اطرفه: ۱۱۷۷