صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 516
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۱۶ ١٩ - كتاب التهجد تھی۔ جس طرح آپ سے روح القدس کا دائمی تعلق تھا جو ایک لحظہ تھا جو ایک لحظہ کے لئے بھی آپ سے علیحدہ نہ ہوتا ، اسی طرح آپ کا دل ذکر الہی کی وجد آمیز کیفیات سے ہمیشہ معمور رہتا تھا ۔ امام موصوف نے اسی غرض سے حضرت جندب کی دوسری روایت نمبر ۱۱۲۵ بھی اسی باب میں شامل کر دی ہے۔ معذور کا لیٹے لیٹے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تمحید اور دعائیں کر لینا اس کے لئے تہجد کا قائم مقام ہے۔ سورہ والضحی کی آیات اسی دائمی تعلق کو ظاہر کرتی ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶۹ تا ۱۷۳) بابه تَحْرِيضُ النَّبِيِّ ﷺ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ وَالنَّوَافِلِ مِنْ غَيْرِ إِيْجَابِ صلى الله ۔ علی نبی ﷺ کا تہجد اور نفلوں کے لئے ترغیب دینا بغیر انہیں واجب قرار دینے کے وَطَرَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ في ﷺ ایک رات حضرت فاطمہ اور حضرت علی علیہما السلام وَعَلِيًّا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ لَيْلَةً لِلصَّلَاةِ۔ کے پاس نماز کے لئے (انہیں جگانے ) آئے۔ ١١٢٦ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ حَدَّثَنَا ۱۱۲۶ ( محمد ) بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا، کہا: عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عبد الله بن مبارک ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا : ) هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ معمر نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔ زہری اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ہند بنت حارث سے ۔ ہند نے حضرت ام سلمہ اسْتَيْقَظَ لَيْلَةً فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَاذَا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و علیہ وسلم ایک رات أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ ، مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ جاگے اور آپ نے فرمایا : سبحان اللہ ! آج رات الْخَزَائِنِ، مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ کیا کچھ بلائیں اُتاری گئیں اور کیا کیا خزانے الْحُجُرَاتِ يَا رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا اُتارے گئے ۔ ان حجرے والیوں کو کون جگائے؟ بہت سی ہیں جو دنیا میں کپڑے پہنے ہوئے ہیں ۔ عَارِيَةٍ فِي الْآخِرَةِ۔ آخرت میں ننگی ہونگی ۔ اطرافه 1١٥ ، 3599 ، 5844 ، ٦٢١٨، ٧٠٦٩۔ ۱۱۲۷: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ :۱۱۲۷ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے ہمیں بتایا۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: