صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 518 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 518

صحیح البخاری جلد ۲ ۵۱۸ ١٩ - كتاب التهجد ۱۱۲۹ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ :۱۱۲۹: عبد اللہ بن یوسف ( تنیسی ) نے ہم سے بیان قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کیا، کہا: مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمّ ہے، ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے، عروہ نے الْمُؤْمِنِيْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ حضرت عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ثُمَّ میں نماز پڑھی۔لوگوں نے بھی آپ کی اقتداء میں صَلَّى مِنَ الْقَابِلَةِ فَكَثُرَ النَّاسُ ثُمَّ نماز پڑھی۔پھر آپ نے دوسری رات بھی پڑھی اور اجْتَمَعُوْا مِنَ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَو الرَّابِعَةِ لوگ بہت ہو گئے۔پھر تیسری یا چوتھی رات کو بھی فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ اکٹھے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ قَدْ رَأَيْتُ پاس باہر نہیں گئے۔جب صبح ہوئی تو آپ نے فرمایا: الَّذِي صَنَعْتُمْ وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ میں ے دیکھ لیا تھا جو تم کرتے تھے اور مجھے تمہارے الْخُرُوج إِلَيْكُمْ إِلَّا أَنِّي خَشِيْتُ أَنْ پاس باہر آنے سے اسی بات نے روکا ہے کہ میں ڈر تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ۔گیا مبادا تم پر (تہجد) فرض ہو جائے اور یہ واقعہ رمضان میں ہوا۔اطرافه (۷۲۹ ۷۳۰ ، ۹۲٤، ۲۰۱۱، ۲۰۱۲، ٥٨٦١۔صلى الله تشریح : تَحْرِيضُ النَّبي الله عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ وَالنَّوَافِلِ مِنْ غَيْرِ إِيْجَابِ: باب ۵ میں اور چار روایتیں لائی گئی ہیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ نماز تہجد آپ کے نزدیک فرض نہیں تھی اور آپ نے لوگوں پر اپنے قول و فعل سے واضح کیا کہ یہ نماز فرض نہیں۔پھر بھی آپ کی خواہش یہ تھی کہ لوگ اپنی خوشی نفس سے تہجد پڑھا کریں۔أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللهِ : عنوانِ باب میں حضرت فاطمہ اور حضرت علی کے جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، وہ روایت نمبر ۱۱۲۷ میں مذکور ہے۔حضرت علی کے عذر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم متأثر ہو کر واپس نہیں ہوئے بلکہ اس ادب کی وجہ سے جو اللہ تعالی کا آپ کے دل میں تھا۔اللہ تعالیٰ کا نام سن کر آپ رُک گئے اور انہیں کچھ نہیں کہا۔اگر حضرت علی کی معذرت میں معقولیت ہوتی تو آپ یہ نہ فرماتے۔وَكَانَ الْإِنْسَانُ اَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا۔(الکہف:۵۵) { جبکہ انسان ہر