صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 507
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۰۷ ۱۸ - كتاب تقصير الصلاة بَاب ۱۹ : إِذَا لَمْ يُطِقْ قَاعِدًا صَلَّى عَلَى جَنْبِ جب بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو کروٹ پر ہی نماز پڑھ لے وَقَالَ عَطَاءٌ إِنْ لَّمْ يَقْدِرْ أَنْ يَتَحَوَّلَ اور عطاء کہتے تھے: اگر قبلے کی طرف منہ پھیرنے کی إِلَى الْقِبْلَةِ صَلَّى حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ۔ طاقت نہ ہو۔ پھر جدھر بھی اس کا منہ ہو، نماز پڑھ لے۔ ۱۱۱۷ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ عَبْدِ ۱۱۱۷: عبدان نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبداللہ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ قَالَ سے ، عبداللہ نے ابراہیم بن طہمان سے روایت کی ۔ حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ عَنِ ابْنِ انہوں نے کہا: حسین نے جو ( بچوں کو ) لکھنا پڑھنا بُرَيْدَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ رَضِيَ سکھاتے تھے، مجھے بتایا: انہوں نے ابن بریدہ سے، اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ بِي بَوَاسِيرُ فَسَأَلْتُ ابن بریدہ نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فَقَالَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے بواسیر تھی ۔ نبی صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَّمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ صلى اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا۔ آپ نے لَّمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبِ ۔ اطرافه: ١١١٥، ١١١٦۔ فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر کھڑے نہ ہو سکو تو بیٹھے ہی سہی اور اگر بیٹھ بھی نہ سکو تو کروٹ پر ہی۔ تشريح : إِذَا لَمْ يُطِقُ ۔۔۔۔ صَلَّى حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ: اسلام نے عبادات کے بجالانے میں ہر ممکن ۔ سے ممکن سہولت دی ہے مگر کسی حالت میں بھی انہیں نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ زت نہیں دی کیونکہ عبادت روح کی زندگی اور نشو و نما کے لئے بطور غذا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فتوی دیا ہے وہ اصولاً ایسا فتوٹی ہے جو مجاہدانہ زندگی کے عین مناسب حال ہے اور اس فتوئی سے استفادہ ہر شخص کے اپنے اندازہ استطاعت پر چھوڑ دیا ہے۔