صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 507 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 507

البخاري - جلد ۲ ۵۰۷ ۱ - كتاب تقصير الصلاة بَاب ۱۹ : إِذَا لَمْ يُطِقْ قَاعِدًا صَلَّى عَلَى جَنْبِ جب بیٹھنے کی بھی طاقت نہ ہو تو کروٹ پر ہی نماز پڑھ لے وَقَالَ عَطَاءٌ إِنْ لَّمْ يَقْدِرْ أَنْ يُتَحَوَّلَ اور عطاء کہتے تھے: اگر قبلے کی طرف منہ پھیرنے کی إِلَى الْقِبْلَةِ صَلَّى حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ۔طاقت نہ ہو۔پھر جدھر بھی اس کا منہ ہو، نماز پڑھ لے۔۱۱۱۷: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ عَبْدِ اا عبدان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبداللہ اللَّهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ قَالَ سے عبداللہ نے ابراہیم بن طہمان سے روایت کی۔حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ الْمُكْتِبُ عَنِ ابْنِ انہوں نے کہا: حسین نے جو ( بچوں کو ) لکھنا پڑھنا بُرَيْدَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنِ رَضِيَ سکھاتے تھے، مجھے بتایا: انہوں نے ابن بریدہ سے، اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ بِي بَوَاسِيْرُ فَسَأَلْتُ ابن بریدہ نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فَقَالَ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے بواسیر تھی۔نبی صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَّمْ تَسْتَطعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے متعلق پوچھا۔آپ نے فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھو اور اگر کھڑے نہ ہو سکو تو لَّمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ۔اطرافه: ١١١٥، ١١١٦۔تشریح: بیٹھے ہی سہی اور اگر بیٹھ بھی نہ سکو تو کروٹ پر ہی۔إِذَا لَمْ يُطِقُ۔۔۔۔۔صَلَّى حَيْثُ كَانَ وَجْهُهُ : اسلام نے عبادات کے بجالانے میں ہر ممکن سے ممکن سہولت دی ہے مگر کسی حالت میں بھی انہیں نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ عبادت روح کی زندگی اور نشو و نما کے لئے بطور غذا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فتویٰ دیا ہے وہ اصولا ایسا فتویٰ ہے جو مجاہدانہ زندگی کے عین مناسب حال ہے اور اس فتویٰ سے استفادہ ہر شخص کے اپنے اندازہ استطاعت پر چھوڑ دیا ہے۔