صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 506
البخاري - جلد ۲ ۵۰۶ ١ - كتاب تقصير الصلاة بَابِ ۱۸ : صَلَاةُ الْقَاعِدِ بِالْإِيْمَاءِ بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھنا ١١١٦: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ ١١١٦: ابو عمر نے ہم سے بیان کیا، کہا: عبدالوارث حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنَ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: جسین ( معلم ) الْمُعَلِمُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن بُرَيْدَةَ أَنَّ نے ہمیں بتایا کہ عبداللہ بن بریدہ سے مروی ہے کہ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنِ وَكَانَ رَجُلًا حضرت عمران بن حصین نے اور انہیں بواسیر تھی اور ابو مَبْسُوْرًا۔وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ مَرَّةً عَنْ معمر راوی نے کبھی یوں کہا: حضرت عمران (بن عِمْرَانَ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ حصین) سے روایت ہے۔انہوں نے کہا : میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَهُوَ في صلى اللہ علیہ وسلم سے آدمی کی نماز کے متعلق پوچھا نبی قَاعِدٌ فَقَالَ مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ جبکہ وہ بیٹھا ہوا ہو تو آپ نے فرمایا: جو کھڑے ہوکر وَمَنْ صَلَّى فَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْر نماز پڑھے تو یہ زیادہ بہتر ہے اور جس نے بیٹھ کر نماز الْقَائِمِ وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرَ پڑھی اس کو کھڑے ہونے والے کے ثواب سے آدھا ملے گا اور جس نے لیٹ کر نماز پڑھی، اس کو بیٹھنے الْقَاعِدِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ نَائِمًا عِنْدِي والے کے ثواب سے آدھا ملے گا۔ابو عبد اللہ ( بخاری ) نے کہا: اس جگہ لفظ نَائِما میرے نزدیک مُضْطَجِعًا یعنی لیے ہوئے کے معانی میں ہے۔مُصْطَجعًا هَا هُنَا۔اطرافه: ۱۱۱۵، ۱۱۱۷ تشریح: صَلَاةُ الْقَاعِدِ بِالْإِيْمَاءِ : باب مذکور کے ضمن میں حضرت عمران بن حصین کی سابقہ روایت کا اعادہ کیا گیا ہے اور اس میں اشارہ سے نماز پڑھنے کا ذکر نہیں۔لیٹ کر نماز پڑھنے کے جواز سے ضمناً استنباط کیا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی بیٹھ کر در دسر یا در چشم کی وجہ سے رکوع و سجود نہ کر سکے تو اس کو بھی اشارہ سے نماز پڑھنے کی اسی طرح اجازت ہے جس طرح لیٹ کر پڑھنے والے کو۔