صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 36 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 36

صحیح البخاری جلد ۲ ۳۶ بلکہ اس میں اضطراب و پریشانی کی حالت پیدا ہو کر نماز کا لطف جاتا رہے گا۔ ١٠ - كتاب الأذان تفصیل کے لئے دیکھئے : اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۲ تا ۱۰ روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۱۶ تا ۳۲۴) صلى الله قَالَهُ أَبُو قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ عل : حضرت ابو قتادہ کی روایت میں إِذَا سَمِعْتُمُ الإِقَامَةَ کی بجائے إِذَا اتَيْتُمُ الصَّلوةَ کے الفاظ ہیں ۔ (روایت نمبر ۱۳۵) امام بخاری نے حضرت ابو قتادہ کی روایت کا عنوان باب میں حوالہ دے کر روایت وہ پیش کی ہے جس کے الفاظ باعتبار مفہوم ارشاد نبوی کے زیادہ موافق ہیں اور چونکہ اقامت کو سننے والا چلنے میں طبعاً جلدی کرے گا۔ کیونکہ اسے ابتدائی حصے میں شریک نہ ہونے کا خوف ہوگا۔ مگر اس کو بھی یہی حکم ہے کہ وہ چلنے میں جلدی نہ کرے۔ بَاب ۲۲ : مَتَى يَقُوْمُ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْإِمَامَ عِنْدَ الْإِقَامَةِ لوگ جب اقامت کے وقت امام کو دیکھیں تو کب کھڑے ہوں؟ ٦٣٧ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۶۳۷ : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ نے ہمیں بتایا، کہا: یحی ( ابن ابی کثیر ) نے مجھے لکھا : يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ عبد الله بن ابی قتادہ سے مروی ہے ۔ انہوں نے اپنے أَبِيْهِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ عَ إِذَا أَقِيمَتِ باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُوْمُوْا حَتَّى تَرَوْنِي۔ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تکبیر اقامت کہی جائے تو تم اس اطرافه: ٦٣٨، ٩٠٩۔ وقت تک کہ مجھے نہ دیکھو، کھڑے نہ ہو۔ تشريح : مَتى يَقُومُ النَّاسُ : لوگوں کی اب بھی یہی عادت ہے کہ کبیر اقامت کے الفاظ اک الفاظ اللهُ أَكْبَرَ اللهُ اسبر سنتے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں، امام کھڑا ہو یا نہ ہو۔ یہ آداب اقتداء کے خلاف ہے۔ إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِه - کتاب الاذان باب نمبر ( ۵ ) امام تو اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے تا افراد کے اندر اجتماعی کیفیت پیدا ہو ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر کہ لوگوں کے کھڑے ہونے کی کوئی انتظامی صورت نہیں۔ بعض الله اكبر سنتے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں اور بعض حَيَّ عَلَى الصَّلوةَ اور قَدْ قَامَتِ الصَّلوۃ من کر۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کے تشریف ) ریف لانے سے پہلے لوگ کھڑے ہو کر آپ کا انتظار کرتے ہیں۔ یہ بے ترتیبی دی بے ترتیبی دیکھ کر آپ نے فرمایا: إِذَا اقِيمَتِ الصَّلُوةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِی (قُمْتُ) جب تک مجھے نہ دیکھو کہ میں کھڑا ہو گیا ہوں تم بھی کھڑے نہ ہو۔ نماز کا آغاز در اصل قیام سے ہوتا ہے۔ پس اس قیام میں بھی اتباع ضروری ہے۔