صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 36
حيح البخاری جلد ۲ بلکہ اس میں اضطراب و پریشانی کی حالت پیدا ہوکر نماز کا لطف جاتا رہے گا۔١٠ - كتاب الأذان تفصیل کے لئے دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۲ تا ۱۰۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۳۱۶ تا ۳۲۴) قَالَهُ اَبُوْ قَتَادَةَ عَنِ النَّبي عل الله : حضرت ابو قتادہ کی روایت میں إِذَا سَمِعْتُمُ الْإِقَامَةَ کی بجائے إِذَا اتَيْتُمُ الصَّلوة کے الفاظ ہیں۔( روایت نمبر ۶۳۵) امام بخاری نے حضرت ابوقتادہ کی روایت کا عنوان باب میں حوالہ دے کر روایت وہ پیش کی ہے جس کے الفاظ باعتبار مفہوم ارشاد نبوی کے زیادہ موافق ہیں اور چونکہ اقامت کو سنے والا چلنے میں طبعا جلدی کرے گا۔کیونکہ اسے ابتدائی حصے میں شریک نہ ہونے کا خوف ہوگا۔مگر اس کو بھی یہی حکم ہے کہ وہ چلنے میں جلدی نہ کرے۔بَاب ۲۲ : مَتَى يَقُوْمُ النَّاسُ إِذَا رَأَوُا الْإِمَامَ عِنْدَ الْإِقَامَةِ ا لوگ جب اقامت کے وقت امام کو دیکھیں تو کب کھڑے ہوں؟ ٦٣٧: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۶۳۷ : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہشام قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ كَتَبَ إِلَيَّ نے ہمیں بتایا ، کہا سجي ( ابن ابی کثیر) نے مجھے لکھا: يَحْيَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ عبد الله بن ابی قتادہ سے مروی ہے۔انہوں نے اپنے أَبِيْهِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ ﷺ إِذَا أُقِيِّمَتِ باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تکبیر اقامت کہی جائے تو تم اس الصَّلَاةُ فَلَا تَقُوْمُوْا حَتَّى تَرَوْنِي۔وقت تک کہ مجھے نہ دیکھو، کھڑے نہ ہو۔اطرافه ۶۳۸، ۹۰۹ تشریح : مَتَى يَقُومُ النَّاسُ : لوگوں کی اب بھی یہی عادت ہے کہ تکبیرا قامت کے الفاظ الله اكبر الله اخبر سنتے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں، امام کھڑا ہو یا نہ ہو۔یہ آداب اقتداء کے خلاف ہے۔اِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِه - (کتاب الاذان باب نمبر ( ۵ ) امام تو اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے تا افراد کے اندر اجتماعی کیفیت پیدا ہو۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر کہ لوگوں کے کھڑے ہونے کی کوئی انتظامی صورت نہیں۔بعض الله اکبر سنتے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں اور بعض حَيَّ عَلَى الصَّلوةَ اور قَدْ قَامَتِ الصَّلوة سن کر۔اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کے تشریف لانے سے پہلے لوگ کھڑے ہو کر آپ کا انتظار کرتے ہیں۔یہ بے ترتیبی دیکھ کر آپ نے فرمایا: اذا أقِيمَتِ الصَّلوةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِی (قُمْتُ) جب تک مجھے نہ دیکھو کہ میں کھڑا ہو گیا ہوں تم بھی کھڑے نہ ہو۔نماز کا آغاز در اصل قیام سے ہوتا ہے۔پس اس قیام میں بھی اتباع ضروری ہے۔