صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 35 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 35

البخاری جلد ۲ ۳۵ ١٠ - كتاب الأذان بَاب ۲۱ : لَا يَسْعَى إِلَى الصَّلَاةِ وَلْيَأْتِ بِالسَّكِيْنَةِ وَالْوَقَارِ نماز کی طرف دوڑ کر نہ آئے بلکہ سکینت اور وقار سے آئے وَقَالَ مَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتَكُمْ اور فرمایا: جو رکعت تم پالو ا سے پڑھو اور جو تم سے رہ فَأَتِمُوْا وَقَالَهُ أَبُو قَتَادَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی جائے وہ پوری کر لو۔حضرت ابوقتادہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔٦٣٦: حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ۶۳۶ : آدم نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی ذئب أَبِي ذِنْب قَالَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ نے ہم سے بیان کیا، کہا: زہری نے ہمیں بتایا۔سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ انہوں نے سعید بن مسیٹب سے، سعید نے حضرت النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ابوہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔۔۔وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي اور زہری سے مروی ہے کہ انہوں نے ابوسلمہ سے، هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابو سلمہ نے حضرت ابو ہریرہ سے، حضرت ابو ہریرہ نے قَالَ إِذَا سَمِعْتُمُ الْإِقَامَةَ فَامْشُوا إِلَى في صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: الصَّلَاةِ وَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِيْنَةِ وَالْوَقَارِ جب تم تكبيرا قامت سنو تو نماز کے لئے چلے آؤ اور وَلَا تُسْرِعُوْا فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا اطمینان اور وقار کواپنا شیوہ بناؤ اور تم جلدی نہ کیا کرو۔جو رکعت تم پا لو وہ پڑھ لو اور جو تم سے رہ جائے اسے فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا۔اطرافه ۹۰۸ تشریح: پورا کرلو۔وَالْيَأْتِ بِالسَّكِيْنَةِ وَالْوَقَار: لفظ سكينت کا تعلق اعضاء جسم کے حرکات وافعال باطمینان ظاہر ہونے سے ہے اور وقار کا تعلق ہیئت اور وضع سے۔مثلاً غض بصر یعنی خوابیدہ نگاہی، غض صوت یعنی نرم آہنگی وغیرہ۔انسان کے ظاہری حرکات اور اس کی وضع قطع اس کے روحانی حالات پر گہرا اثر ڈالتے - ہیں۔اس لئے شارع اسلام علیہ الصلوۃ والسلام نے جسمانی حرکات میں ضبط و احتیاط کی تاکید فرمائی ہے۔جو شخص ایک رکعت پانے کے لئے جلدی جلدی وضو کرے گا یا تیزی سے چلے گا۔اس کے اندر سکون واطمینان کی حالت نہیں رہے گی۔